محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مزاج بخیر!
سوال یہ ہے کہ " مشموم " نامی قادیانیوں کی ایک کمپنی ہے، جس نے حال ہی میں پاکستان ہاکی فیڈریشن اور فٹبال فیڈریشن کے میچوں کو اسپانسر کیا ہے ، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ پاکستان ہاکی اور فٹبال فیڈریشن نے ان سے گرانٹ لی ہے، اب اسے قوم کے بچوں پر خرچ کرنا حلال ہے یا حرام؟ قادیانی جو کہ حضور ﷺ کی حرمت و ناموس کے دشمن ہیں، ان کی اشیاء کی تشہیر کرنا اور ان سے مالی تعاون لینا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ قادیانی حضرت محمدﷺ کی ختمِ نبوت کے منکر ہونے کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج اور مرتد و زندیق ہیں، جبکہ " مشموم کمپنی‘‘ جو کہ قادیانیوں کی ہی ایک کمپنی ہے ، اس کی مصنوعات کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ مرزائیت کی تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد بنانے اور اسلام و مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچانے میں صرف ہوتا ہے ، اس کے علاوہ ’’مشموم کمپنی‘‘ مرزائیوں کو سالانہ لاکھوں روپیہ مرزائیت کی نشر و اشاعت کے لئے دیتی ہے ، اس لئے ’’مشموم ‘‘ کی مصنوعات میں سے کسی بھی چیز کا خریدنا، بیچنا اور کھانے پینے وغیرہ میں استعمال کرنا، ان کی اشیاء کی تشہیر کرنا، ان سے ہدایا لینا، مسلمانوں کے لئے جائز نہیں اور جو ان ساری باتوں کو جانتے ہوئے ان کی مصنوعات کو استعمال کرتا ہے اور ان کی اشیاء کی تشہیر کرتا ہے ، وہ مرزائیت کی تبلیغ میں تعاون کی وجہ سے بہت سخت گناہ گار ہو رہا ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس ناجائز تعاون سے مکمل احتراز کرے۔
قال اللہ تعالیٰ:﴿لَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدة: 2)۔
و في ٲحکام القرآن للجصاص : و في هذه الآیة دلالة علی أنه لاتجوز الاستعانة بأهل الذمة في أمور المسلمین من العمالات والکتبة اھ(2/74)۔
و فی تفسير روح المعاني : و حكى الكواشي عن سهل أنه قال : من صحح إيمانه و أخلص توحيده فإنه لا يأنس إلى مبتدع و لا يجالسه و لا يؤاكله و لا يشاربه و لا يصاحبه و يظهر له من نفسه العداوة و البغضاء ، و من داهن مبتدعا سلبه الله تعالى حلاوة السنن ، و من تحبب إلى مبتدع يطلب عز الدنيا أو عرضا منها أذله الله تعالى بذلك العز و أفقره بذلك الغنى الخ(ج14 ص229 دار الكتب العلمية بيروت)۔
و فی تکملة فتح الملھم : و الذي یتخلص من مجموع الروایات أنّ الأمر في الاستعانة بالمشرکین موکول إلی مصلحة الإسلام و المسلمین ، فإن کان یؤمن علیهم من الفساد ، و کان في الاستعانة بهم مصلحة فلا بأس بذلك إن شاء اللہ إذا کان حکم الإسلام هو الظاهر ، و یکون الکفار تبعًا للمسلمین ، و إن کان للمسلمین عنهم غنی أو کانوا هم القادة و المسلمون تبعًالهم أو یخاف منهم الفساد فلایجوز الاستعانة بهم اھ(3/249)۔