سلام کے بعد عرض ہے کہ میرے والد نے بذریعۂ تملیک اپنی تمام جائیداد اپنی پہلی بیوی اور تین بیٹیوں کو حصۂ برابر کے حساب سے منتقل کر دیا اور بعد میں بوجہ ضرورت اور حالات ، دوسری شادی کی جس میں سے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی ، ہمیں جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ملا ، رسول ﷺ نے اپنی حدیث بذریعہ نعمان ابن بشیر سے اپنی اولاد کے حق میں ایسے تحفہ دینے سے منع کیا ہے جس سے اولاد میں ناانصافی ہو ،میرے والد نے بوقتِ تحفہ انصاف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے برابری سے فیصلہ کیا، لیکن مزید اولاد ہونے پر انکا یہ فیصلہ ناانصافی پر مبنی ہو گیا ،آپ سے سوال ہے کہ شریعت کی رو سے کیا والد ناانصافی کرتے ہوئے اپنی تمام جائیداد کسی خاص اولاد کو ہبہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟یا ان پر انصاف کا حکم نہیں ہے؟ اگر والد ہبہ کرتے وقت نا انصافی سے کام لیتے ہوئے تمام جائیداد کسی ایک اولاد کو ہبہ نہیں کر سکتے ، اور اسوقت انہوں نے انصاف کو مدِنظر رکھتے ہوۓ فیصلہ کیا ہو ،لیکن بعد میں دیگر اولاد ہونے پر انکا فیصلہ نا انصافی میں بدل گیا ہو تو ایسے فیصلے کی شرعی حیثیت کیاہے؟ کیا ایسافیصلہ جائز ہوگا یا کالعدم؟۔
واضح ہو کہ والد اپنی زندگی میں برضاء و خوشی اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت کی بناء پر فقہاءکرام ۔رحمھم اللہ ۔ نے اسے اولاد کے درمیان برابری رکھنے کا حکم دیا ہے اور بلا کسی عذر کے اولاد کے درمیان برابری نہ کرنے کو مکروہ و ممنوع قرار دیا ہے ، لیکن یہ حکم تقسیم کے وقت موجود اولاد کے لئے ہے ، لہذا سائل کے والد نے اگر اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اپنی بیٹیوں کے درمیان برابر تقسیم کرکے ہر بیٹی کو اس کے حصے پر مالکانہ قبضہ دیدیا ہو ، توا یسی صورت میں شرعاً سائل کی سوتیلی بہنیں اپنے اپنے حصوں کی مالک بن چکی ہیں ،اور اس طرح کرنے سے سائل کے والد پر کوئی گناہ بھی نہیں ۔
جبکہ اس کے بعد سائل کے والد کو اللہ تعالیٰ نےدوسری بیوی سے جو اولاد دی ہے ، اس کی وجہ سے سابقہ تقسیم پر شرعاً کوئی اثر نہ ہوگا ، تاہم اگر سائل کے والد کے پاس مزید مال و جائیداد موجود ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی دوسری بیوی کی اولاد کو بھی پہلی بیوی کی بیٹیوں کے بقدر مال دے تاکہ ان کی بھی دلجوئی ہوسکے ۔
کما فی مشکوٰۃ المصابیح : و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلامًا ، فقال : «أكلّ ولدك نحلت مثله؟» قال : لا ، قال : «فأرجعه» . وفي رواية قال : «فاتقوا الله و اعدلوا بين أولادكم»."(/261)۔
و فی الھندیۃ : ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم و فيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لاينفرد الواهب بالرجوع ، بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم" (4/385)۔
و فی الدر المختار : و في الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة ؛ لأنها عمل القلب ، و كذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار ، و إن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني ، و عليه الفتوى"(5/696)۔