السلام علیکم !
عرض یہ ہے کہ میرا نام نور الحق ہے ، میری بیوی کا انتقال ہوچکا ہے ، میری ایک پراپرٹی ہے ، جو کہ اورنگی ٹاون میں ہے اورپینسٹھ (65) گز پر مشتمل ہے ، جس کی قیمت تقریباًٍ چالیس (40) لاکھ روپے تک ہے ، میرا ایک(1) بیٹا اور چھ(6) بیٹیاں ہیں ، پانچ (5) بیٹیاں اور ایک (1) بیٹا شادی شدہ ہے اور ایک بیٹی غیر شادی شدہ ہے ، میرے تمام بچوں کی شادی کے اخراجات میرے بیٹے نے ہی کیے ہیں ، میرا سوال یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے تمام بچوں کو ان کا حصہ دے دوں ، تو مجھے بتائیں کہ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟ اور اس کا حصہ کس طریقے سے کیا جاسکتا ہے ؟
براہِ مہربانی شرعی طریقے سے حصے بنا دیں اور ایک فتوی کی شکل میں عنایت فرما دیں ، آپ کی نوازش ہوگی۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے در میان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، لہذا سائل کے ذمہ بھی اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم اور ضروری نہیں ، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ کے اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرتاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں ، بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں) میں برابر تقسیم کر کے ہر فرد کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ، تاکہ یہ ہبہ (گفٹ) شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے , بلا وجہ کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اسکی اولاد ہیں ، تا ہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری وغیرہ کی بنا ء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اسکی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے ، یہ گناہ ہے ۔
کما فى الدر المختار : (و تتم)الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)(5/690)۔
و في الهنديه : و لو وهب رجل شيأ لاولاده فى الصحة و أراد تفضيل البعض على البعض (الى قوله)لا بأس به اذا لم يقصد به الاضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطى الابنة مثل ما يعطى للابن و عليه الفتوى الخ (4/391)۔
و فى بدائع الصنائع : و ينبغي للرجل أن يعدل بين اولاده في النحلى لقوله سبحانه و تعالى (إن الله يأمر بالعدل و الاحسان)اهـ (6/127)۔