میں" شہناز کوثر " ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور میری شادی بھی مسلم لڑکے سے ہوئی ،اس سے میرے چار بچے بھی ہیں، وہ شوہر مجھ پر بہت تشدد کرتا تھا اور اس نے مجھے گھر سے نکال دیا ،مجھے کرسچن فیملی نے پناہ دی اور پچھلے پانچ سالوں سے میں کرسچن فیملی کے پاس ہوں، اب میں کرسچن لڑکے سے نکاح کرنا چاہتی ہوں اور میں نے اپنا مذہب بھی تبدیل کر لیا ہے،اب میں کرسچن ہوں، کیا اب مجھے اس مسلم شوہر سے طلاق لینی پڑے گی یا مذہب کی تبدیلی سے نکاح ختم ہو جاتا ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی کر دیں۔
سائلہ کا سوال اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے خاوند نے سائلہ پر بغیر کسی وجہ کے تشدد اور ظلم کرکے گھر سے نکال دیا ہو ،تو اس کا یہ رویہ انتہائی غلط اور گھٹیا عمل ہونے کے ساتھ ساتھ شرعاً جائز بھی نہیں تھا ،جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا ہے ،تاہم شوہر کے غلط رویہ کی وجہ سے سائلہ کا مذہبِ اسلام کو چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیار کرنا بھی انتہائی خطرناک اور کفریہ عمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام ہے،جس کی وجہ سے سائلہ سخت گناہ گار ہوئی ہے ،اس پر لازم ہے کہ دینِ اسلام سے متعلق جو شکوک و شبہات ہوں ،ان کو کسی مستند اور پختہ عالم دین کے سامنے رکھ کر ان کو دور کرے اور دوبارہ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو،ورنہ آخرت میں اللہ کے دائمی عذاب سے نجات نہ ہوسکے گی -
جبکہ مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا ،بلکہ بدستور برقرار ہے ،لہذا سائلہ پر لازم ہے کہ بصدقِ دل توبہ تائب ہو کر دینِ اسلام قبول کرکے اپنے سابق خاوند کے ساتھ زندگی بسر کرے ،لیکن اگر سمجھانے کے باوجود خاوند اپنے رویہ سے باز نہ آئے اور سائلہ کو رکھنے پر اور نان نفقہ دینے کیلئے تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ اس سے طلاق لیکر کسی دوسری جگہ نکاح کرلے ،لیکن اگر خاوند طلاق دینے کیلئے بھی تیار نہ ہو تو سائلہ عدالت میں "نان نفقہ نہ دینے " کو بنیاد بنا کر" فسخ نکاح " کی درخواست دائر کرے اور جج بھی قانونی کاروائی کے بعد خلع کی ڈگری کے بجائے "فسخِ نکاح " کی ڈگری جاری کرے ۔
کما فی الدر المختار: (لو ارتدت) لمجيء الفرقة منها (الیٰ قولہ) وتجبر على الإسلام وعلى تجديد النكاح زجرا لها بمهر يسير كدينار وعليه الفتوى ولوالجية وأفتى مشايخ بلخ بعدم الفرقة بردتها زجرا وتيسيرا لا سيما التي تقع في المكفر ثم تنكر، قال في النهر: والإفتاء بهذا أولى من الإفتاء بما في النوادر ،(الیٰ قولہ) (ولا) يصلح (أن ينكح مرتد أو مرتدة أحدا) من الناس مطلقا
وفی الشامیۃ: (قوله قال في النهر إلخ) عبارته: ولا يخفى أن الإفتاء بما اختاره بعض أئمة بلخ أولى من الإفتاء بما في النوادر اھ (3/194)
و فی الحیلۃ الناجزۃ: و أما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعھا نفقة الحال فلھا القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق و إلا طلق عليه، قال محشيه أي طلق عليه الحاكم من غیر تلوم اھ ( ص:133 )۔