السلام علیکم
میرے شوہر کی عادت ہے فارغ اور آزاد الفاظ استعمال کرنے کی، ایک دن میں نےپوچھا کہ ایسےلفظ کیوں بولتے ہیں ،تو کہتے ہیں کہ تم مجھے کیوں تنگ کرتی ہو ،اس لئے بول دیتا ہوں ،پر میری کوئی ایسی غلط نیت نہیں ہوتی ،میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اس سے نکاح پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا ،اور قسم بھی کھاتے ہیں کہ میں نے کبھی ایسی نیت سے کوئی بات نہیں کی ۔
واضح ہو کہ "آزاد ہو " کا لفظ ہمارے عرف میں صریح طلاق کیلئےمستعمل ہے،اور اس سے بلانیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ،اسی طرح "فارغ "کے لفظ سے بھی قرائن کی روشنی میں طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے ،لیکن سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ سائلہ کے شوہر نے مذکور الفاظ کب اور کن مواقع پر اورکتنی دفعہ استعمال کیے ہیں ؟
لہذا سائلہ کو چاہیئے کہ مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ای میل کردے ،اس پر غورو فکر کے بعد ان شاءاللہ حکمِ شرعی سےآگاہ کر دیا جائے گا ۔
فی الشامیۃ : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت(3/299)-