السّلام علیکم!
آپ کی گذارش میں ایک مسئلہ پیش کرنا چاہتی ہوں ، میرے شوہر سے انکی پہلی بیوی کے والد (جو کہ آرمی میں کرنل کے عہدہ پر ہیں) اور گھر والوں نے طلاقِ ثلاثہ اسٹامپ پیپر پر جان کی، سرکاری نوکری سے نکلوانے، گھر والوں سے قطع تعلق ، فوری گھر سے بےگھر ہونے کی دھمکیاں دے کر دستخط کر وائے گئے جبکہ اُنہوں نے زبانی کچھ نہیں کہا کیونکہ وہ طلاق دینا نہیں چاہتے تھے ،میرے شوہر نے یہ سارے میسجز واٹس ایپ بھی کیے کہ انکو اتنی دھمکیاں دی گئیں کہ انکو خودکشی کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہیں آرہا ،انکو یہ دھمکی بھی دی کہ تمہاری دوسری بیوی کا جو حشر ہوگا سوچ نہیں سکتے تم , انکو اسکا یقین ہوگیا تھا کہ دشمنی میں کچھ بھی کر دینگے , وہ انکا بار بار یہی کہنا تھا کہ تمہارے گھر والوں کو کچھ نہیں ہونے دونگا میں ، برائے مہربانی مفتیانِ کرام اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں کہ میں بہت پریشان ہوں ،مجھے واضح کریں کہ میں ابھی بھی انکے نکاح میں ہوں ؟جزاک اللہ
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی پرحقیقت ہو ، اس طور پرکہ سائلہ کے شوہر کو طلاق نامہ پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے جان جانے یا کسی عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو ، جس کی وجہ سے اس نے بغیر قصد و ارادے کے، فقط طلاق نامہ پر دستخط کردیے ہوں , زبان سے طلاق کے الفاظ کی ادائیگی نہ کی ہو ، تو اس سے شرعاً سائلہ پر کوئی طلاق نہیں ہوئی بلکہ دونوں میاں بیوی کا نکاح بر قرار ہے ، اور دونوں حسب ِسابق زندگی بسرکرسکتے ہیں ۔
فی البحرالرائق : و قيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة و لا حاجة هنا كذا في الخانية ، و في البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ (3/264)۔