کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کبھی کبھار جماعت کی نماز سے رہ جاتا ہوں تو کیا اس صورت میں اپنی اہلیہ اور ہمشیرہ وغیرہ کو گھر میں جماعت کرواسکتا ہوں تاکہ جماعت کی فضیلت حاصل ہوجائے ، اور اگر صرف اپنی اہلیہ ہو یا صرف ہمشیرہ وغیرہ ہو یعنی صرف ایک خاتون ہو تو اس کو جماعت کرواتے وقت کہاں کھڑا کروں؟ اپنے دائیں طرف یا پیچھے؟
صورتِ مسئولہ میں اپنی اہلیہ اور ہمشیرہ وغیرہ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنا صحیح ہے اور جماعت کی فضیلت بھی حاصل ہوجائے گی، لیکن مسجد کا ثواب نہیں ملےگا، جبکہ صرف ایک خاتون کو نماز پڑھانے کی صورت میں پیچھے کھڑا کر لیا کریں ،خاتون مرد کی طرح دائیں جانب کھڑی نہ ہو ۔
في الطحطاوی علی نور الايضاح: والأصح إن اقامتها في البيت کإقامتها في المسجد وان تفاوتت الفضيلة (إلی قوله) لوصلی فی بیته بزوجته وجاریته أو ولدہ فقد أتی بفضیلة الجماعة کذا فی الشرح ولکن فضیلة المسجد اتم اھ (ص: ۱۵۶)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله أما الواحدة فتتأخر) فلو كان معه رجل أيضا يقيمه عن يمينه والمرأة خلفهما ولو رجلان يقيمهما خلفه والمرأة خلفهما بحر، وتأخر الواحدة محله إذا اقتدت برجل لا بامرأة مثلها اھ (1/ 566)۔
وفى البدائع: وإذا كان مع الإمام إمرأة اقامهاخلفه لأن محاذاتها مفسدة وكذلك لو کان معه خنثیٰ مشكل لاحتمال انه امراة ولو كان معه رجل وامرأة أو رجل وخنثیٰ أقام الرجل عن يمينه والمراة والخنثیٰ خلفه اھ (۱ْ۱۵۹)۔