کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ہمارے ہاں غیر مقلدین نمازِ جنازہ سے قبل اعلان کرتے ہیں کہ نمازِ جنازہ کے ختم پر ایک سلام ہے دوسرا سلام بدعت ہے، مکہ اور مدینہ میں ایک سلام کا رواج ہے، اس سے اہلِ سنت والجماعت کے عوام اپنے جنازہ کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں، لہٰذا قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ نمازِ جنازہ کے دو سلاموں کا حکم کیا ہے؟ ایک پر اکتفاء کرنا درست ہے یا نہیں؟ ایک سلام والوں کو بدعتی کہا جائےگا یا نہیں؟ اہلِ سنت والجماعت کے عوام کے لۓ اس طرح غیر مقلدین کی اقتداء کرنا درست ہے یا نہیں؟
جنازے کے ختم پر دو سلام صحیح احادیث اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہیں، اس لۓ کسی غیر مقلد کا اس کو بدعت کہنا حدیث سے ناواقفیت پر مبنی ہونے کے علاوہ مسلمانوں میں انتشار پھیلانا ہے، جو قرآن وسنت کی روشنی میں حرام ہے، اس لۓ حنفی مسلک لوگوں کو چاہیۓ کہ دو سلاموں کے ساتھ نمازِ جنازہ پڑھا کریں، ایسے افراد کی وجہ سے شک میں نہ پڑیں۔
فی السنن الكبرى للبيهقي: قال: أمنا عبد الله بن أبي أوفى على جنازة ابنته فكبر أربعا، فمكث ساعة حتى ظننا أنه سيكبر خمسا، ثم سلم عن يمينه وعن شماله , فلما انصرف، قلنا له: ما هذا؟ قال: "إني لا أزيدكم على ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع" , أو "هكذا صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم" اھ (4/ 71)۔