میری بیوی سے زبانی لڑائی ہوئی،تب اس نے کہا کہ"چھوڑنا ہے تمہیں مجھے"میں نے صرف "ہاں " کہا ،بغیر طلاق کی نیت کے ،صرف ایک مرتبہ غصے میں ہاں کہا،اب کیا ہوگا۔
واضح ہو کہ سوال میں جو جملہ ذکر کیا گیا ہے "چھوڑنا ہے تمہیں مجھے"اس نوعیت کا جملہ عرف اور محاورے میں مستقبل میں کسی کام کے عزم و ارادے کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے، لہذا سائل نے اپنی بیوی کے سوال " چھوڑنا ہے تمہیں مجھے"کے جواب میں اگر فقط 'ہاں"کہہ دیاہو ،اسکے علاوہ اس نے کوئی اور جملہ استعمال نہ کیا ہو ،تو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،بلکہ دونوں کا نکاح برقرا ر ہے ،تاہم سائل کو چاہیئے کہ آئندہ کےلئے ایسے جملے کہنے سے بھی اجتناب کرے ۔
کما فی الشامیۃ : (قوله و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر ، و أراد اللفظ و لو حكما ليدخل الكتابة المستبينة و إشارة الأخرس و الإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي ، و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحا و لا كناية لا يقع عليه الخ(3/230)۔
و فیھا ایضاً :بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة ، اھ(3/319)۔