کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد جو ایک ہی منتظم کے حوالے ہے ،جو مسجد کے تمام امور میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کرتا، اس کے ساتھ ساتھ وہ امام کی موجودگی میں بھی اور غیر موجودگی میں بھی گھنٹوں اسپیکر پر تقریر بھی جھاڑتا ہے اور نماز پڑھانے کے لۓ قرّاء اور علماء کی موجودگی میں خود مصلی پر چڑھ کر نماز پڑھاتا ہےاور کہتا ہے کہ علم کی مدرسے میں سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، اردو میں کتابیں مل جاتی ہیں ، میں نے ان کا مطالعہ کیا ہے، بھائی بھی اس کا یہ کہتاہے کہ اس کا مطالعہ بہت ہے، بقول اس کے محمدﷺ کے دور میں مدرسے نہیں تھے، اور مقتدیوں کا بعض حصّہ اس کی امامت سے خوش نہیں ہے اور کچھ خاموش ہیں کہ بات کرنے سے فساد پیدا ہوتا ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس شخص کی امامت کرنا شرعاً علماء اور قراء کی موجودگی میں کیسا ہے؟ جواب دے کر محلّے والوں کو اس کے شر سے نجات عطا فرمائیں۔
اپنے سے افضل اور مسائلِ نماز سے زیادہ واقف لوگوں کی موجودگی میں مذکور شخص کا نماز پڑھانا وغیرہ، جبکہ مقتدی بھی اسے ناپسند کرتے ہوں مکروہِ تحریمی ہے، اس لۓ مذکور شخص کو چاہیۓ کہ صرف انتظامی معاملات ہی پورے اخلاص کے ساتھ انجام دیا کرے اور وعظ وامامت کے لۓ کسی اہل شخص کا انتخاب کر کے خود بھی اس کی اقتداء میں نماز کا اہتمام کرے۔
فی الدر المختار: (ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون» اھ (1/ 559)۔