امامت و جماعت

شافعی امام کا سہواً نماز لوٹاتے وقت حنفی مقتدیوں کا اس کی اقتداء کرنا

فتوی نمبر :
65497
| تاریخ :
2018-11-17
عبادات / نماز / امامت و جماعت

شافعی امام کا سہواً نماز لوٹاتے وقت حنفی مقتدیوں کا اس کی اقتداء کرنا

محترم مفتیانِ کرام!
ایک مسئلہ میں راہ نمائی در پیش ہے ، ہمارے مدرسہ کی مسجد میں شافعی امام نے فجر کی نماز پڑھائی ، اور قراءت کے دوران اس آیت کی قراءت کرتے ہوئے ﴿کذلک ما أتی اللذین من قبلہم من رسول الا قالوا ساحر أو مجنون﴾ ’’قالوا‘‘چھوڑ دیا، اور یوں پڑھا ﴿من رسول الا ساحر او مجنون﴾ نماز کے بعد اس یقین کی بنیاد پر کہ معنیٰ میں تغیرِ فاحش ہونے کی وجہ سے نماز فاسد ہو گئی ہے انہی امام صاحب کی اقتداء میں نماز لوٹائی گئی، بعد میں شافعی مذہب کی تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ شافعیہ کے مذہب میں صحیح قول کے مطابق سورۃ الفاتحہ کے علاوہ قرآن میں سہواً یا نسیاناً ایسی غلطی کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی جس سے معنی میں تغیرِ فاحش واقع ہو گیا ۔
لہٰذا اس قول کے مطابق دوسری نماز جو پڑھی گئی وہ امام کے شافعی المسلک ہونے کی بناء پر امام کے حق میں نفل واقع ہوئی ، البتہ مقتدی چونکہ حنفی تھے ، لہٰذا ان کی نماز فرض تھی ، تو اب برائے مہربانی مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرما کر راہ نمائی فرما دیجیے:
1. شافعی امام کی دوسری نماز فرض واقع ہوئی یا نفل ؟ جبکہ امام کا یہ گمان بھی ہے کہ چونکہ میں دوسری نماز میں بھی فر ض ہی کی نیت سے داخل ہوا تھا ، اس لۓ میری نماز فرض ہی واقع ہوئی ہے ، کیا ان کا یہ گمان صحیح ہے ؟
2. حنفی مقتدیوں کو اپنی نماز سہ بارہ لوٹانی پڑے گی یا نہیں ؟ واضح رہے کہ اس واقعہ کو تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں ۔
3. فتاوی قاضی خان میں ہے : ’’وان ترک کلمۃ من آیۃ (الی قولہ) وان تغیر المعنی بترک الکلمۃ بأن قرأ: (فمالہم لا یؤمنون ) وترک (لا) أو قرأ (واذا قرئی علیہم القرآن لا یسجدون) وترک (لا) تفسد صلاتہ عند العامۃ؛ لأنہ أخبر بخلاف ما أخبر اللہ تعالیٰ بہ، لو اعتقد ذلک یکفر، فاذا أخطأ تفسد صلاتہ، وقیل لا تفسد؛ لأن فیہ بلوی وضرورۃ، والصحیح ہو الأول"
نیز رد المحتار (۱/۶۳۲) میں ہے : ”(قولہ أو نقص کلمۃ) کذا فی بعض النسخ ولم یمثل لہ الشارح. قال فی شرح المنیۃ: وإن ترک کلمۃ من آیۃ – فان لم تغیر المعنی مثل - وجزاء سیئۃ مثلہا - بترک سیئۃ الثانیۃ، لا تفسد، وإن غیرت مثل -
فی یؤمنون - بترک لا ، فانہ تفسد عند العامۃ؛ وقیل: لا، والصحیح الأول‘‘.
تو کیا یہاں ضرورت محقق ہو گئی ہے ؟ اور عمومِ بلوی کو بنیاد بنا کر عامۃ المشایخ کے قول سے ہٹ کر فتویٰ دیا جاسکتا ہے ؟ اور اگر ضرورت متحقق نہیں ہوئی تو اس عبارت سے کیا مراد ہے ؟
نوٹ : سوالیہ پرچے کے ساتھ شافعی مذہب کے اقوال کا پرچہ بھی منسلک ہے، امید ہے جلد جواب عنایت فرمائیں گے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسلکِ شافعی کے مفتیانِ کرام سے رابطہ کرنے اور فقہ شافعی کی کتب کی طرف مراجعت کرنے سے یہ بات واضح ہوئی کہ مسلکِ شافعی کے مطابق سورۃ فاتحہ کے علاوہ نماز میں سہواً اور نسیاناً قرأت کی فحش غلطی سے بھی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ایسی غلطی کے باوجود نماز درست ہو جاتی ہے اور اس نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوتا، اس لیے مسئلہ ھذا کے پیش نظر مذکور شافعی المسلک امام کی نماز صحیح ہوگئی تھی اس پر اس نماز کا اعادہ لازم نہیں تھا، مگر مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے امام موصوف نے چونکہ دوبارہ فرض ہی کی نیت سے نماز کا اعادہ کیا تھا، اس لۓ مذکور امام کی اقتداء میں فرض پڑھنے والے حنفی مقتدیوں کی نماز درست ہو گئی ہے، اس لۓ ان پر نماز کا اعادہ لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

في البيان في مذهب الإمام الشافعي: وإن كان هذا اللحن في غير الفاتحة، مثل: أن يقول في قَوْله تَعَالَى: ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ﴾ [التوبة: 3] [التوبة: 3] ، بكسر اللام من (رسولِه) ، فإن كان لا يعرف أن هذا لحن، أو كان يعرف، ولكن نسيه، فقرأه على وجه السهو، لم يضره ذلك اھ (2/ 409)۔
وفي نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج: نعم لو نسي أنه صلى الأولى فصلاها مع جماعة فبان فساد الأولى أجزأته الثانية؛ لأنه نوى الفرض حقيقة بخلافه ثم والقديم ونص عليه في الإملاء أيضا أن الفرض إحداهما يحتسب الله تعالى ما شاء منهما، وقيل الفرض كلاهما، والأولى مسقطة للحرج لا مانعة من وقوع الثانية فرضا كصلاة الجنازة لو صلاها جمع مثلا سقط الحرج عن الباقين فلو صلاها طائفة أخرى وقعت الثانية فرضا اھ (2/ 154)۔
وفي الدر المختار: (وصح الاقتداء فيه) ففي غيره أولى إن لم يتحقق منه ما يفسدها في الأصح كما بسطه في البحر (بشافعي) مثلا (لم يفصله بسلام) لا إن فصله (على الأصح) فيهما للاتحاد وإن اختلف الاعتقاد اھ (2/ 7)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قول على الأصح فيهما) أي في جواز أصل الاقتداء فيه بشافعي وفي اشتراط عدم فصله، خلافا لما في الإرشاد من أنه لا يجوز أصلا بإجماع أصحابنا لأنه اقتداء المفترض بالمتنفل، (إلی قوله) ورد على ما مر عن الإرشاد بما نقله أصحاب الفتاوى عن ابن الفضل أنه يصح الاقتداء لأن كلا يحتاج إلى نية الوتر، فأهدر اختلاف الاعتقاد في صفة الصلاة، واعتبر مجرد اتحاد النية. اهـ. (2/ 8)۔
وفي تبیین الحقائق: ودلت المسئلة على جواز الاقتداء بالشافعية اذا كان يحتاط في موضع الخلاف (الى قوله ) و ذكر أبوبكر الرازي: اقتداء الحنفي بمن یسلم علی رأس الرکعتین يجوز ويصلي معه بقية الوتر، لأن امامه لم يخرج بسلامه عنده، لأنه مجتهد فيه كما لو اقتديٰ بإمام قد رعف، فعلى هذا يجوز الاقتداء اذا صحت على زعم الامام و ان لم تصح علىٰ زعم المقتدی، وقيل: إذا سلم الإمام على رأس الركعتين قام المقتدى وأتم الوتر وحده، وقال صاحب الارشاد: لا يجوز الاقتداء بالشافعية في الوتر بإجماع أصحابنا، لأنه اقتداء المفترض بالمتنفل، والأول أصح، لأن اعتقاد الوجوب ليس بواجب على الحنفي، ولم یعلم المقتدي من الإمام ما یفسد الصلاة على زعم الامام كمس المرأة والمذكر، و ما أشبه ذلك والامام لا يدري بذلك تجوز صلاته على رأي الأكثر ، وقال بعضهم لا يجوز، منهم الهندوانی، لأن الأمام یری بطلان هذه الصلاة فتبطل صلاة المقتدی تبعا له، وجه الأول و هو الأصح أن المقتدی یری جواز صلاة امامه ، والمعتبر في حقه رأى نفسه فوجب القول بجوازها اھ(۱ / ۱۷۱ )۔
وفي حاشية الشلبي على التبیین: تحت (قوله: لأن اعتقاد الوجوب ليس بواجب علی الحنفى) عبارة باكبر على الشافعي اھ ، (فرع) اذا كان على الرجل فائتة حديثة وافتتح الصلاة ونسـى الـفـائـتـة فـجـاء انسان و اقتدى به و هو يعلم أن عليه فائتة حديثة فصلاة الامام تامة وصلاة المقتدی فاسدة، لأن عنده أن امامه على الخطأ اھ( أيضاً )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65497کی تصدیق کریں
0     747
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات