کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مؤذّن کی غیر موجودگی میں ایک کلین شیو شخص کا اقامت کرنا کیسا ہے ؟ جبکہ مسجد میں اس کے علاوہ دوسرے داڑھی والے لوگ موجود ہوں ۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے جو شخص اذان دے وہی اقامت بھی کہے یا اس کے علاوہ کوئی اور شخص بھی اقامت دے سکتا ہے ؟
باشرع اور داڑھی رکھنے والے افراد کی موجودگی میں داڑھی مونڈنے والے شخص کا اقامت کہنا مکروہ ہے،مگر اس سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی ، جبکہ مؤذّن کی غیر موجودگی میں تو کوئی بھی دوسرا شخص بلاکراہت تکبیر کہہ سکتا ہے، البتہ جب مؤذن موجود ہو تو اس کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت و رضامندی کے بغیر کسی دوسرے شخص کے لیے اقامت کہنا مکروہ ہے ، تاہم اس کی اجازت سے بلا کر اہت جائز اور درست ہے ۔
في سنن أبي داود: زياد بن نعيم الحضرمي، أنه سمع زياد بن الحارث الصدائي، قال: لما كان أول أذان الصبح أمرني يعني النبي صلى الله عليه وسلم فأذنت، فجعلت أقول: أقيم يا رسول الله؟ فجعل ينظر إلى ناحية المشرق إلى الفجر، فيقول: «لا» حتى إذا طلع الفجر (إلی قوله) فأراد بلال أن يقيم، فقال له نبي الله صلى الله عليه وسلم: «إن أخا صداء هو أذن ومن أذن فهو يقيم»، قال: فأقمت اھ (1/ 142)۔
وفی الدر المختار: (ويكره أذان جنب وإقامته وإقامة محدث لا أذانه) على المذهب(و) أذان (امرأة) وخنثى (وفاسق) ولو عالما، اھ (1/ 392)۔
وفيه أيضا: اقام غير من اذن بغيبته اى المؤذن لا يكره مطلقا وان بحضوره کره ان لحقه وحشة اھ (1 / 395 )۔