امامت و جماعت

داڑھی منڈھے شخص کا اقامت کہنا- کیا مؤذن ہی کا اقامت کہنا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
65344
| تاریخ :
2009-07-25
عبادات / نماز / امامت و جماعت

داڑھی منڈھے شخص کا اقامت کہنا- کیا مؤذن ہی کا اقامت کہنا ضروری ہے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مؤذّن کی غیر موجودگی میں ایک کلین شیو شخص کا اقامت کرنا کیسا ہے ؟ جبکہ مسجد میں اس کے علاوہ دوسرے داڑھی والے لوگ موجود ہوں ۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے جو شخص اذان دے وہی اقامت بھی کہے یا اس کے علاوہ کوئی اور شخص بھی اقامت دے سکتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

باشرع اور داڑھی رکھنے والے افراد کی موجودگی میں داڑھی مونڈنے والے شخص کا اقامت کہنا مکروہ ہے،مگر اس سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی ، جبکہ مؤذّن کی غیر موجودگی میں تو کوئی بھی دوسرا شخص بلاکراہت تکبیر کہہ سکتا ہے، البتہ جب مؤذن موجود ہو تو اس کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت و رضامندی کے بغیر کسی دوسرے شخص کے لیے اقامت کہنا مکروہ ہے ، تاہم اس کی اجازت سے بلا کر اہت جائز اور درست ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

في سنن أبي داود: زياد بن نعيم الحضرمي، أنه سمع زياد بن الحارث الصدائي، قال: لما كان أول أذان الصبح أمرني يعني النبي صلى الله عليه وسلم فأذنت، فجعلت أقول: أقيم يا رسول الله؟ فجعل ينظر إلى ناحية المشرق إلى الفجر، فيقول: «لا» حتى إذا طلع الفجر (إلی قوله) فأراد بلال أن يقيم، فقال له نبي الله صلى الله عليه وسلم: «إن أخا صداء هو أذن ومن أذن فهو يقيم»، قال: فأقمت اھ (1/ 142)۔
وفی الدر المختار: (ويكره أذان جنب وإقامته وإقامة محدث لا أذانه) على المذهب(و) أذان (امرأة) وخنثى (وفاسق) ولو عالما، اھ (1/ 392)۔
وفيه أيضا: اقام غير من اذن بغيبته اى المؤذن لا يكره مطلقا وان بحضوره کره ان لحقه وحشة اھ (1 / 395 )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65344کی تصدیق کریں
0     688
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات