ترجمہ:بیوی کے سامنے کہا بھی نہ ہو تو اسے اللہ معاف کرےایسے میں طلاق ہو جاتی ہے اگر کوئی ہے اگر کوئی کسی کے سامنے یاغصے سے یہ کہا کہ" ٹھہر میں اسے ابھی طلاق دیتا ہوں "اور ساتھ ہی منہ سے یہ نکلتا ہے کہ طلاق دوں کیا؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں ہے کہ سوال کے ابتدائی حصے میں سائل کیا پوچھنا چاہتاہے ، تاہم اگر شوہر بات چیت کے دوران بیوی کے متعلق یہ جملہ کہے "کہ ٹھہرو میں اسے ابھی طلاق دیتا ہو ں "تو مذکور جملہ چونکہ عرف میں مستقبل کیلئے استعمال ہوتاہے ، اس لئے اس جملے سے اس کی بیوی پر کو ئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،اسی طرح سوال میں جودوسراجملہ مذکور ہے "طلاق دوں کیا؟"یہ جملہ بھی چونکہ سوال اور استفسار کیلئے استعما ل ہوتا ہے ، اس لئے اس جملے سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
کمافی الھند یۃ: في المحيط لوقال بالعربية أطلق لايكون طلاق إلاإذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا(1/384)۔