السلام علیکم! حضرت میں پاکی ناپاکی کے بہت سے مسائل میں پھنسا ہواہوں، سمجھ نہیں آتی سب مسئلے کس سے پوچھوں؟البتہ ایک مسئلہ کہ میں نے پیشاب کے قطروں پر عذاب کی حدیث کے بعد بہت غور کرنا شروع کردیا اور مسئلہ شروع ہوگیا کئی سالوں تک مسئلہ رہا۔ البتہ کچھ درست ہونے کے بعد ایک روز بغیر واشروم کیے بغیر مجھے قطرہ محسوس ہوا میں جاکر دیکھا تو نکلا ہوا تھا میں بہت پریشان ہوگیا، اس کے بعد ایک دن محسوس ہوا دیکھنے پر کچھ نظر نہیں آیا، پھر دیکھا جاکر کچھ دیر بعد تو ٹپ پر نظر آیا، ایک روزا پورا جسم دھویا جاکر نماز پڑھ لی پھر محسوس ہوا میں نے جاکر دیکھا تو تھا اب معلوم نہیں تھا، وہ پانی تھا یہ نہیں عموماً دیکھنے پر نہیں نکلا ہوتا تو مجھے ہوتا ہے کے نکل کر کپڑوں پر لگ گیا ہو کپڑے عموماً پانی سے گیلے ہوتے ہیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہوپاتا کے قطرہ نکلا یا نہیں البتہ میں پھر کپڑا دھوتا ہوں شلوار جہاں امکانی حد تک لگ سکتاہے یا جہاں پانی سے دھوتے ہوئے پانی گیا اُس کے بعد بنیان کا حصہ اُسے بعد قمیض کا آگے پیچھے والا امکانی حصہ اور جس جس جگہ میں بیٹھا ہوتاہوں کیوں کہ یہ بھی سناہے کہ ناپاکی دھوتے ہوئے جو چھینٹے گریں گے وہ بھی ناپاک ہوتے ہیں تو جسم دھوتے ہوئے ایک سائیڈ سے دوسری پر جاتے ہیں لازمی اور دوسری سے پہلی پر تو سمجھ نہیں آتی ہم پاک کیسے ہوں گے جوتی کیسے پاک ہوگی جس بیسن پر دھیا کپڑا وہ کیسے صاف ہوگا نامجھے معلوم ہے کہ مجھے واقعی قطروں کی بیماری ہے یا یہ صرف ایک دو بار کا مسئلہ تھا، اور کیا ہر بار محسوس ہونے پر مجھے دیکھنا ہوگا اکثر تو میں نے محسوس ہونے پر نظرا نداز کرکے نماز پڑھ لی اور سوچ کر خوف آتاہے اور بھی مسئلے ہیں جن میں زندگی کا اکثر وقت اور سوچ صرف ہورہی ہے آپ سے مسلسل کیسے رابطہ کیا جائے ہر فتویٰ ایسے پوچھنا مشکل ہوگا۔
سوال میں درج کردہ تفصیل سے معلوم ہوتاہے کہ سائل پر پاکی ناپاکی کے مسائل میں وساوس کا غلبہ ہے، اگر واقعتا ایساہی ہو تو سائل کو جب تک پیشاب کے قطرے آنے کا یقین نہ ہو، تب تک محض شکوک وشبہات کی وجہ سے بار بار وضو کرنے اور کپڑے دھونے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کما فی الشامیة: فعلم بهذا ان المذهب اعتبار غلبة الظن وإنها مقدره بالثلاث لحصولها فی الغالب وقطعًا للوسوسة وانه من اقامة السبب الظاهر مقام المسبب الذی فی الاطلاع علی حقیقته عسر اھ (۱/ ۴۹)
وفیه ایضًا: ولا یقدر بالعدد إلا أن یکون مسوسوسا فیقدر فی حقه بالثلاث کذا فی العالمکیریة اھ (۱/ ۴۹)
وفی شرح الأشباه والنظائر: الیقین لا یزول بالشك ومن ضرورة صیرورته مشکوکا فیه ارتفاع الیقین عن تنجسه ومعصومته وإذا صار مشکوکا جازت الصلاة فیه اھ (۱/ ۱۸۵) واللہ اعلم بالصواب