میں خلیج عرب میں رہ رہا ہوں، ہمارے ہاں کیمپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد ہے، میں نماز وہی پڑھتا ہوں اور میں باریش ہوں، لوگوں کا مطالبہ تھا کہ میں ان کی امامت کروں تو میں نے امامت شروع کر دی میرے چند سوالات ہیں، براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔
۱۔ مجھے گیس (ہوا خارج ہونے) کی شکایت ہے، بعض اوقات بڑی مشکل سے نماز پوری کرتا ہوں ، بعض وقت ایسے محسوس ہوتا ہے کہ وضو ٹوٹ گیا، لیکن یقینی نہیں اور اس بات سے شرماتا ہوں کہ امامت چھوڑ کر وضو کے لیے نکلوں۔
۲۔ میں اتنا اچھا آدمی نہیں ہوں کہ میں امامت کر سکوں، لیکن الحمد للہ میری قرأت اچھی اور معروف ہے۔ آپ بتائیں میں کیا کروں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا امامت کروانا اگرچہ جائز اور درست ہے، تاہم اس کو ہوا خارج ہونے کا جب تک آواز یا بو محسوس ہو کر یقین نہ ہوجائے اس وقت تک وہ نماز جاری رکھے ،محض شک کی بنیاد پر نماز نہ توڑے، لیکن اگر ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہو جائے تو وہ فوراً نماز چھوڑ کر وضو کے لیے چلا جائے اس سلسلے میں شرم کو آڑ نہ بنائے اور کسی کی ملامت کا بھی ہر گز خیال نہ رکھے۔
اور اگر اس کے ساتھ ساتھ بکثرت تیسرے کلمہ کا ورد رکھے تو اُمید ہے کہ یہ بیماری اس کی برکت سے جاتی رہےگی۔
ففی الهدایة: أولیٰ الناس بالإمامة أعلمهم بالسنة وعن أبی یوسفؒ أقرءهم لأن القراءة لابد منها اھ(۱/ ۱۲۱)
وفی سنن ابن ماجه: أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا وضوء إلا من صوت أو ريح» اھ (1/ 172)
وفی سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا وضوء إلا من صوت أو ريح. هذا حديث حسن صحيح. اھ (1/ 130)
وفی معارف السنن: تحت قوله (لا وضوء إلا من صوت أو ريح) سماع الصوت و خروج الریح کنایة عن تحقق الحدث وتیقنه (إلی قوله) معناہ حتی یتقین الحدث ولم یرد به الصوت نفسه ولاالریح نفسها حسب (إلی قوله) ثم تنقض طهارته إذا تیقین وقوع الحدث منه اھ (۱/ ۳۴۱)
وفی الأصول للإمام أبی الحسن الکرخی: إن ما ثبت بالیقین لایزول بالشك اھ (ص: ۱۱)