السلام علیکم! سو کر اٹھنے کے بعد شلوار پر تھوڑا سوکھا ہوا ڈسچارج دیکھیں تو کیا وضو کا حکم لگےگا یا پھر غسل کا ، جب کہ عین ممکن ہے کہ یہ لیکوریا ہو اور یہ سونے سے پہلے ہی لگ گیا ہو، کیونکہ رات کو سونے سے پہلے تو شلوار نہیں دیکھی تھی اور یہ بھی بتا دیں کہ اگر رات کو سونے سے پہلے شلوار پر دیکھا ہو کہ کسی قسم کا ڈسچارج موجود نہیں ہے اور صبح اٹھ کر دیکھیں تو پھر وضو کا حکم لگے گا یا پھرغسل کا ؟
سو کر اٹھنے کے بعد اگر عورت اپنی شلوار پر کوئی تری دیکھے جس کے متعلق اسے یقین یا غالب گمان یہ ہو کہ یہ لیکوریا کا پانی ہے تو ایسی صورت میں خواہ وہ نشان سونے سے قبل لگے ہوں یا سونے کے بعد ، بہر صورت اس عورت کے ذمہ فقط وضوء لازم ہوگا۔
كما فی سنن الترمذی : عن على قال سألت النبي عن المذى فقال : من المذى الوضوء و من المنى الغسل اھ (رقم/116)۔
عن عائشة : قالت سئل النبي عن رجل يجد البلل و لا يذكر احتلاماً : قال يعتسل و عن رجل يرى أنه قد احتلم و لم یجد بللاً ، قال لاغسل عليه : قالتسلمة : هل على المرأة ترى ذلك غسل ؟ قال نعم : ان النساء شقائق الرجال (1/116)۔
و فی رد المحتار : قال ابن حجر في شرحه و هى ماء ابيض متردد بين المذى و العرق يخرج من باطن فرج الذي لا يجب غسله اھ (1/515)۔