السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حضرات مفتیانِ کرام امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہونگے, اس مسئلہ کی بابت بالتفصیل اگر جواب عنایت فرما دیا جائے تو نوازش ہوگی, ہم محافل ، مجالس ، عام جلسوں میں یہ بات دیکھتے ہیں کہ "مرزا غلام احمد قادیانی" جو کہ پیشوا ہے جماعتِ مرزائیہ کا ,اس کو برا بھلا کہا جاتا ہے ، نیز غلیظ قسم کی گالیاں اسٹیجوں سے علماءِ کرام کو دیتے ہوئے سنا ہے , تحریرات میں گالیاں دیکھنے کو ملتی ہیں ، یہاں تک کہ ہمارے گزشتہ اکابرین بھی اس کو گالیاں دیتے رہے ہیں ,اسی طرح شیعہ فرقہ کو بھی گالیاں دی جاتی ہیں ,حالانکہ اگر ہم اس مسئلہ کو قرآن اور سنتِ نبویہ کی رو سے دیکھتے ہیں تو قرآن مجید کی آیت مبارکہ"لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ ----الخ" اس میں برا بھلا کہنے کی بالکل اجازت موجود نہیں ہے ، اسی طرح نبی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی مسیلمہ کذاب ، اسود عنسی یہ جھوٹے مدعیانِ نبوت تھے , لیکن نبی علیہ السلام سے اس طرح ان کو برا بھلا کہنا ثابت نہیں ہے ,پھر کسی بھی فتنہ کے پیشوا کو برا بھلا کہنا کس بناء پر جائز ہے ؟اگر جائز نہیں ہے تو اسٹیجوں پر دی جانے والی گالیوں اور اسی طرح کے لگائے جانے والے نعروں کے متعلق کیا حکم ہے ۔؟؟
بالتفصیل آگاہ فرمادیں .نوازش ہوگی , جزاک اللّٰہ خیرا کثیرا
ہماری معلومات کے مطابق علماءِ دیوبند کے مستند علماءِ کرام کسی بھی فورم(تقریریا تحریر)پر قادیانیوں سمیت کسی بھی فرقہ اور جماعت کیلئے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتے جو اخلاق کے دائرے سے نکل کرفحش گوئی یا گالم گلوچ پر مشتمل ہو ،تاہم قادیانیوں کیلئے عام کفار کے مقابلے میں ان کے لہجہ اور الفاظ کے چناؤ میں سختی ضرور ہوتی ہے،کیونکہ عام کفار کے مقابلے میں قادیانیوں کا کفر زیادہ خطرناک اور قابلِ مؤاخذہ ہے،کہ یہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے عقیدۃً مرتد ہوتے ہیں،جنہیں زندیق کہا جاتا ہے ،اور ایک مسلم معاشرہ میں ان کا وجود مسلمانوں کیلئے دیگر غیر مسلموں کے مقابلہ میں اور زیادہ مہلک اور خطرناک ہوتا ہے ، کہ ان کے دجل اور فریب میں آکر عام سادہ لوح مسلمانوں کا اپنے دین اور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے ،اور اس لئے عام کفار کے مقابلے میں ان کے ساتھ علماءِ کرام کا سخت رویہ رکھنا اور ان کے لئے سخت کلمات استعمال کرنا ان کی مجبوری ہے تاکہ عام مسلمانوں کے دلوں میں ان کیلئے نفرت پیدا ہو کر ان کی ایمان محفوظ ہوسکے اور ایسے موقع پر کہ جب کوئی اسلام دشمن شخص مسلمانوں کے اموال،طاقت اور ایمانی قوت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہو تو اس کیلئے سخت لہجہ استعمال کرنا حضورﷺ سے بھی ثابت ہے،کہ ایک غزوہ کے موقع پر جب بعض کفار حد سے بڑھ گئے تو آپ ﷺ نے ان پر لعنت بھجی تھی،اس لئےعام کفار اور قادیانیوں کو ایک طرح سمجھ کر اس کے خلاف علماءِ کرام کے سخت لہجہ کے استعمال پر معترض ہونا درست نہیں ۔
فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح : (و عن سمرة بن جندب - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم :(لا تلاعنوا) : بحذف إحدى التاءين (بلعنة الله) ، أي: لا يلعن بعضكم بعضا ، فلا يقل أحد لمسلم معين عليك لعنة الله مثلا (و لا بغضب الله) بأن يقول غضب الله عليك (و لا بجهنم) : بأن يقول: لك جهنم أو مأواك . (و في رواية : و لا بالنار) . بأن يقول أدخلك الله النار أو النار مثواك ، و قال الطيبي أي : لا تدعوا الناس بما يبعدهم الله من رحمته إما صريحا كما تقولون : لعنة الله عليه أو كناية كما تقولون عليه غضب الله أو أدخله الله النار ، فقوله : لا تلاعنوا من باب المجاز , لأنه في بعض أفراده حقيقة ، و في بعضه مجاز ، و هذا مختص بمعين لأنه يجوز اللعن بالوصف الأعم كقوله : {فلعنة الله على الكافرين} [البقرة: 89] ، و بالأخص قوله : " «لعنة الله على اليهود» " أو على كافر معين مات على الكفر كفرعون و أبي جهل (رواه الترمذي و أبو داود) . و كذا الحاكم و لفظهم: و لا بالنار على ما في الجامع .(7/3045)-
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1