مسئلہ کچھ یوں ہے کہ چند دن پہلے میں اپنے دو دوستوں کیساتھ بیٹھا گپ شپ کررہاتھا، اتنے میں میرے ایک دوست حبیب نے میرے دوسرے دوست قاری زاہد سے طلاق کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ بتا قاری صاحب , طلاق کب اور کیسے واقع ہوتی ہے؟ قاری زاہد صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا اور اسکے الفاظ کچھ اسطرح تھے " میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں اگر کوئی شخص یہ الفاظ کہے تو اسکی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوجائنگی " ,جسکے بعد قاری صاحب سے کہا کہ قاری صاحب آپ نے طلاق کے الفاظ پہلے کہے اور شرط بعد میں رکھی , اس سے آپ کی بیوی کو طلاق واقع تو نہیں ہوئی، جس کے بعد قاری صاحب نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ میں نے سمجھانے کیلئے کہے اور اس سے کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوتی , حالانکہ اس کو اسطرح کہنا چاہیئے تھا " اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں , تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوجائنگی " ۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ اور جملے سے کیا قاری صاحب کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟۔ علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ والسلام۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور جملہ کہنے سے قاری صاحب کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی -