گانے کے بول میں ایک جملہ ہے: “we are the god now” میں نے خود اس کی یہ توجیہ کی تھی کہ شاید یہ شرک نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد جوڑے کے رشتے کی انتہا اور گہرائی ہے۔لیکن اب مجھے احساس ہوا ہے کہ یہ شرکیہ الفاظ تھے۔اور ممکن ہے کہ میں نے ماضی میں یہ گانا گایا بھی ہو، مگر مجھے یاد نہیں۔اب میں اپنے ایمان کے بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہوں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟
میں جانتا ہوں کہ شرک ناقابلِ معافی گناہ ہے، تو کیا صرف اس غلط فہمی کی وجہ سے میں ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلتا رہوں گا؟
اشعار میں مجازات و استعارات استعمال کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اشعار میں ایسے کلمات اور فقرے لانا جو عوام میں فساد عقیدہ کا سبب بنیں، ان سے بہر صورت اجتناب لازم ہے، لہذا سوال میں مذکور سطر " ہم خدا ہیں" کا جب تک سیاق و سباق معلوم نہیں ہوجاتا، اس وقت تک کوئی حتمی حکم لگانا مشکل ہے، تاہم اشعار وغیرہ میں بھی ایسے الفاظ استعمال کرناکہ جس میں شرک کا شائبہ ہو سکتا ہے درست نہیں، لہذ سائل کو بھی آئندہ کےلئے اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: (ومنها ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص الخ(ج2 صـ258 ، ط: دار الفکر)۔
وفیہ ایضاً: ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط الخ (ج2 صـ283 ، ط: دار الفکر) ۔
واللہ اعلم بالصواب
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1