میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے آفس میں نماز کی جماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن جو شخص نماز کی امامت کرتا ہے نہ تو اس کی داڑھی ہے نہ ان کو دین کے بارے میں کوئی علم ہے، مہربانی کر کے یہ بتائیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے؟ اور امامت کے لیے کیا شرائط ہیں؟
ایسے شخص کی امامت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس لیے اسے اپنے اختیار سے امام بنانے سے احتراز اور کسی ایسے شخص کو منصب امامت کے لیے منتخب کرنا لازم ہے، جو مسائل نماز سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ صحیح تجوید کرنے پر بھی قادر ہو۔
ففی حاشیة البحر: قال الرملی ذکر الحلبی فی شرح منیة المصلی أن کراهة تقدیم الفاسق والمبتدع کراهة التحریم اھ (۱/ ۳۴۹)واللہ اعلم