کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی جب بھی قضائے حاجت سے فارغ ہوتا ہے تو قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد اور غسل کرنے کے بعد جب بھی چند قدم چلتا ہے تو پیشاب کے قطرے شلوار میں نکل جاتے ہیں اور بندے کو سلسلِ بول کی بیماری بھی نہیں ہے صرف پیشاب کرنے کے بعد اور غسل کرنےکے بعد یہ قطرے چند قدم کےبعد نکل جاتے ہیں ،اب آیا یہ بندہ جو اوپر مذکور ہے اس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم ان دونوں مسائل کے بارےمیں آپ حضرات ہماری راہ نمائی فرمائیں۔ شکریہ
جی ہاں! ان قطروں کے نکلنے کے بعد یہ شخص دوبارہ طہارتِ کاملہ حاصل کر کے تنہاء بھی نماز پڑھ سکتا ہے اور دوسروں کی امامت بھی کر سکتا ہے۔
ففی الهدایة: أما المعانی الناقضة للوضوء كل ما یخرج من السبلین لقوله تعالیٰ أو جاء أحد منكم من الغائط و قیل لرسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم : و ما الحدث قال ما یخرج من السبیلین اھ (۱/۲۲)۔