امامت و جماعت

حیات النبیؐ کے منکر کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے والے کی امامت

فتوی نمبر :
60791
| تاریخ :
2007-06-21
عبادات / نماز / امامت و جماعت

حیات النبیؐ کے منکر کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے والے کی امامت

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے امام صاحب ایسے عقائد کے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں جو مسئلہ حیات النبی کے منکر ہیں اور تعلق سے مراد اُٹھنا، بیٹھنا، دوستی، اور کھانا پینا وغیرہ ہے۔
کیا ایسے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ جبکہ مقتدی امام صاحب کے گہرے تعلق کی وجہ سے بدظن ہیں اور بعض مقتدی امام صاحب کے سندھی ٹوپی کے استعمال کی وجہ سے (جس کا نماز میں گر جانے کا خدشہ رہتا ہے) منع کرتے ہیں اور سر پر پگڑی باندھنے کا کہتے ہیں، لیکن امام صاحب بضد ہیں کہ میں پگڑی نہیں باندھوں گا، جس کی وجہ سے بعض مقتدی امام صاحب پر ناراض ہیں، تو کیا جس امام پر مقتدی ناراض ہوں ایسے امام کی امامت قرآن و سنت کی روشنی میں جائز ہے؟ مفصّل جواب تحریر فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور عقیدہ کا حامل شخص اگر غالی اور حیات النبیؐ کے قائل لوگوں کی تکفیر نہ کرتا ہو، بلکہ بعض دلائل کی بنیاد پر اس کو اختیار کیے ہوئے ہو تو اس کے ساتھ تعلق رکھنا جائز اور اس کی وجہ سے کسی کی امامت کو ناجائز قرار دینے سے احتراز لازم ہے، اسی طرح سندھی ٹوپی پہن کر نماز پڑھانا بھی جائز ہے بلاوجہ اس پر معترض ہونا درست نہیں، تاہم امام موصوف اگر اس کے بجائے دوسری ٹوپی پہننے یا پگڑی باندھنے کا اہتمام کیا کرے اور اسی میں نماز پڑھا دیاکرے تو نہ صرف یہ کہ یہ زیادہ بہتر ہے، بلکہ اتباعِ سنت کو شامل ہونے کی بناء پر باعثِ اجر وثواب ہے، جبکہ امام موصوف کاپگڑی سے انکار قطعاً نامناسب اور بُری حرکت ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون» (وإن هو أحق لا) والكراهة عليهم. (1/ 559)۔
و فی الفتاوى الهندية: رجل أم قوما وهم له كارهون إن كانت الكراهة لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة يكره له ذلك وإن كان هو أحق بالإمامة لا يكره. (1/ 87)۔
و فیه أیضاً: ولا بأس بلبس القلانس وقد صح أنه - صلى الله عليه وآله وسلم - كان يلبسها، كذا في الوجيز للكردري. (5/ 330)۔
و فی الدر المختار: (ولا بأس بلبس القلانس) غير حرير و كرباس عليه إبريسم فوق أربع أصابع سراجية وصح أنه حرم لبسها اھ(6/ 755)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله القلانس) جمع قلنسوة بفتح القاف ذات الآذان تحت العمامة (إلی قوله) (قوله وصح أنه - عليه الصلاة والسلام - لبسها) كذا في بعض النسخ، ومثله في الدر المنتقى: أي لبس القلانس، وقد عزاه المصنف والزيلعي إلى الذخيرة، و في بعض النسخ: وصح أنه حرم لبسها أي قلانس الحرير والذهب تأمل(6/ 755)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60791کی تصدیق کریں
0     1034
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات