کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک ایسے آدمی کو جانتا ہوں جس نے ابھی دعوت و تبلیغ میں چار ماہ لگائے ہیں، اب وہ کراچی میں ہے ایک ماہ سے، لیکن اب وہ نماز پڑھنے بھی نہیں جاتا ہے اور اُلٹی سیدھی باتیں کرتا ہے کہتا ہے ’’اللہ نے میرے ساتھ دشمنی کی ہے‘‘ اور ’’اس نے مجھے جان بوجھ کر نقصان دیا ہے‘‘ –معاذاللہ- اور اُسے پیسے کی ہوس لگ گئی ہے ، یاد رہے کہ وہ ایک زمانہ میں دیوانہ مریض رہ چکا ہے، اور اس پر جادو کے اثرات بھی ہیں، میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ آدمی کسی دماغی ٹینشن یا جادو کے سحر میں آکر یہ سب کہتا ہے تو کیا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا؟ اور اس کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جائے؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
مذکور جملے بلاشبہ کفریہ ہیں اور ان کے استعمال سے آدمی دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے، اس لیے شخصِ مذکور اگر واقعۃً دیوانہ اور مجنون نہیں تو اس پر لازم ہے کہ اس قسم کے جملے استعمال کرنے سے مکمل احتراز کرے اور بصدقِ دل توبہ استغفار کے ساتھ تجدیدِ ایمان و نکاح بھی کرے۔
ففی فی خلاصة الفتاوی: الجاھل إذا تکلم بکلمة الکفر و لم یدر انھا کفر قال بعضھم لا یکون کفرا و یعذر بالجھل و قال بعضھم یصیر کافرا و منھا انہ من اتی بلفظة الکفر و ھو لم یعلم انھا کفر الا انھا اتی بھا عن اختیار یکفر عند عامة العلماء خلافا للبعض و لایعذر بالجھل اما اذا اراد ان یتکلم فجری علی لسانہ کلمة الکفر و العیاذ باللہ من غیر قصد لایکفر (4/382)۔
و فی الفتاوى الهندية: رجل قال: يا خداي روزى بر من فراخ كن يا بازركانيء من رونده كن يا برمن جور مكن قال أبو نصر الدبوسي - رحمه الله تعالى -: يصير كافرا بالله كذا في فتاوى قاضي خان. (2/ 260)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1