کیا فرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جن مقدس ہستیوں یعنی جماعتِ صحابہ کرام کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے یہ فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں:
۱۔ فی مشکوۃالمصابیح: عن أبی سعید الخدری قال : قال النبی- صلی اللہ علیہ وسلم - : " لا تسبوا أصحابی فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذہبا ما بلغ مد أحدہم و لا نصفہ " . متفق علیہ (3 / 307)۔
۲۔ أ یضاً: وعن جابر عن النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - قال : " لا تمس النار مسلما رآنی أو رأی من رآنی " . رواه الترمذی(3 / 309)۔
۳۔ و فیہ أ یضاً: وعن عبد اللہ بن مغفل قال : قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - : "اللہ اللہ فی أصحابی لا تتخذوہم غرضا من بعدی فمن أحبہم فبحبی أحبہم ومن أبغضہم فببغضی أبغضہم ومن آذاہم فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ ومن آذی اللہ فیوشک أن یأخذہ". رواه الترمذي (3 / 309)۔
تو جو شخص ان حضرات صحابہ کرام کو ’’سود خورکہے یا لکھے‘‘ - معاذ اللہ- شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ آیا وہ شخص اس کے بعد بھی مسلمان رہےگا؟ اس کا حکمِ شرعی بتا کر ممنون فرمائیں۔
ایسا شخص تبرّا باز، فاسق و فاجر اور بدترینِ خلائق ہے اور اس کے سوءِ خاتمہ کا قوی اندیشہ ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنی قبیح حرکت پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لیے اس قسم کی حرکت سے بھی اجتناب کرے۔
ففی حاشية ابن عابدين: أقول: نعم نقل في البزازية عن الخلاصة أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر، و إن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. اهـ. و هذا لا يستلزم عدم قبول التوبة. على أن الحكم عليه بالكفر مشكل، لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع و تخطئتهم و سب أحد من الصحابة و بغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ. (4 / 237)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1