کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے خود تصوف پر عمل کیا ؟
جی ہاں ! علامہ ابن تیمیہ نے نہ صرف خود تصوف پر عمل کیا ، بلکہ انہوں نے اپنی تصانیف و تقاریر کے ذریعہ تصوف اور دل کی بیماریوں اور اخلاقِ رذیلہ کا تذکرہ کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شیخ الکل حضرت مولانا شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کے زہد و تقویٰ کی جگہ جگہ تعریف کی ہے اور انہیں سادات و مشائخ میں شمار کیا ہے ، البتہ انہوں نے خود ساختہ اور شرعی حدود سے متجاوز صوفیاء کی مذمت بھی بیان فرمائی ہے جس سے بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ تصوف کے مخالف تھے ،حالانکہ یہ حقیقت کے برعکس ہے، چنانچہ مندرجہ ذیل چند عبارات سے یہ امر بخوبی واضح ہو رہا ہے۔
و فی فتاویٰ ابن تیمیه : و الزھد المشروع ترك مالاینفع فی الدار الآخرة و أکل مایستعین به العبد علی طاعة اللہ فلیس ترکه من الزھد المشروع اھ(11/27،28)
و فیھا ایضا : و ذکرت قول یزید البسطامی : لو رایتم الرجل یطیر فی الھواء و یمشی علی الماء فلا تغتروا به حتی تنظروا کیف وقوفه عند الاوامر و النواھی اھ(11/466)۔
و فیھا ایضا : فالبخل و الحسد مرض یوجب بغض النفس لما ینفعھا بل و حبھا لما یضر ھا و لھذا یقرن الحسد بالحق و الغضب و اما مرض الشھوة و العشق فھو حب النفس اھ(10/129)۔