محترم جناب حضرت مفتی سیف اللہ جمیل صاحب ! السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ہے جس کے درجِ ذیل عقائد ہیں:
(1)۔ یہ شخص سفلی عملیات کرتاہے اور یہ کہتا ہے کہ میرا جو مؤکل ہے، وہ جبرائیل علیہ السلام سے زیادہ طاقت ور ہے ۔
(2)۔ایک پرچی میں سورۃ الفیل لکھی ہوئی ہے اور اس سورت کے درمیان میں جگہ جگہ عربی کے اور لفظ لکھے ہوئے ہیں ، اس تحریف کو میں نے خود دیکھا ہے۔
(3)۔جہاد کا مکمل انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جہاد کو میں سرے سے مانتا ہی نہیں ۔
(4)۔ ’’اذا جاء نصر اللہ و الفتح‘‘کے ذریعے جہاد کو منسوخ کرتا ہے، اس آیت کے بارے میں کہتا ہے کہ اللہ فرماتے ہیں کہ اب تم جہاد مت کرو، میں اللہ خود کرونگا تم مسلمان گھر میں بیٹھے رہو۔
(5) (علماء کو گالیاں دیتا ہے) خاندان کے لوگوں سے بحث کرتا ہے، ہم کسی بات میں علماء کا حوالہ دیتے ہیں تو علماء کو گالیاں دیتا ہے جس کی وجہ سے ہم اس شخص سے احتراز کرتے ہیں
(6) ایسے شخص کے بیٹے کیلئے اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ دینا کیسا ہے، اس لۓ کہ اس نے ہم سے رشتہ کا مطالبہ کیا ہے۔
محترم مفتی صاحب! میرا اعتماد علماءِ دیوبند پر ہے، ہمیں ہر فتنے سے آگاہ کرنے اور بچانے میں کردار علماءِ کرام کا ہے، براہِ مہربانی اس فتنے کے بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔ اور یہ شخص اپنے عقائد کا پرچار کرتا پھرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام باتیں میری موجودگی میں ہوئیں، اس کا گواہ میں خود ہوں، اس کے علاوہ دیگر باتیں جو میں نے لوگوں سے سنی ہیں، ان کو ذکر نہیں کیا ، براہِ کرم جلد جواب عنایت فرمائیں۔
شخصِ مذکور کی طرف جن عقائد و نظریات کو منسوب کیا گیا ہے، اگر وہ واقعۃً ایسے کفریہ کلمات بولتا ہے تو اس کے دائرۂ اسلام سے خارج ہونے میں شبہ نہیں ، پھر اگر اس کا مذکور بیٹا بھی اپنے والد کو برحق سمجھتا ہو ، یا وہ اسی قسم کے خیالات کا حامل ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے ، اس لۓ کسی سنی العقیدہ لڑکی کا ایسے شخص کے ساتھ عقدِ نکاح جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الھندية : إذا أنكر الرجل آية من القرآن ، أو تسخر بآية من القرآن و في الخزانة ، أو عاب كفر کذا فی التتارخانية اھ(2/266)۔
و فی الأشباہ و النظائر: و الکفر تکذیب محمد -صلی اللہ علیه و سلم فی شئ مما جاء به من الدین ضرورة اھ(ص188)۔
و فی شرح فقه الأکبر : و فی تتمة الفتاوی : من استخف بالقرآن او بالمسجد او نحوہ مما یعظم فی الشرع کفر اھ(ص167)۔
و فی الھندية : و يخاف عليه الكفر اذا شتم عالماً او فقیھاً من غیر سببٍ اھ(2/275)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1