مجھے اسلامیات کی ایک کتاب کی کچھ عبارتوں پر اشکال ہے، اس کے بارے میں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام سے دریافت کرنا ہے کہ کیا مندرجہ ذیل عبارات کسی مستند کتاب کے حوالہ سے ثابت ہیں؟
1۔معاویہ نے بہت سے جاسوس بھیجے اور امام حسن کے قتل کرنے والے کیلۓ دو ہزار درہم اور اس کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کا انعام رکھا ۔
2۔ امام حسن نے قبیلہ کندی کے سردار کو چار ہزار آدمیوں کے ہمراہ بھیجا، جہاں امیر معاویہ کے لشکر نے خیمے لگائے ہوئے تھے ،مگر امیر معاویہؓ نے اس سردار کو اپنا والی بنانے کی لالچ دی اور اس کے لشکر پر فتح حاصل کرلی۔
3۔ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے بیٹے ابراہیم اور نواسے حسین کے ساتھ تھے کہ جبرائیل حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول! اللہ کا حکم یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک کو لیں جو آپ کے پاس رہ سکتا ہے یا تو ابراہیم یا حسین ، دونوں نہیں تو حضور نے فرمایا کہ ابراہیم کو لے لیں اور حسین کو رہنے دیں، چنانچہ ابراہیم کا انتقال ہو گیا۔
4۔ حضرت علی کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بیٹے حسن خلیفہ بنے، مگر امیر معاویہ بن ابی ابوسفیان چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا یزید خلیفہ بنے، یہ بات امتِ مسلمہ میں توڑ کا سبب بن گئی ۔
5۔معاویہ نے جودہ بنت اشعث (جو کہ امام حسن کی بیوی تھیں ) سے وعدہ کیا کہ اگر وہ امام حسن کو زہر دیکر مار دے تو وہ اسے انعام میں دوہزار درہم ،دس جوڑے کپڑے جن پر سونے کا کام ہوا ہوگا اور پورے کوفہ میں زیتون کے تیل کا نظام دینگے، اس کے علاوہ وہ اس کی شادی اپنے بیٹے یزید سے کرادیں گے، دو مرتبہ ناکام ہونے کے بعد آخرکار جودہ پانی میں زہر ملا کر دینے میں کامیاب ہوگئی۔
کیا ان باتوں کا ثبوت کہیں سے ملتا ہے ؟ اگر نہیں تو پھر ایسی کتاب پڑھنا پڑھانا شرعاً کیسا ہے ؟ کیا یہ مسلمانوں کا فریضہ نہیں ہے کہ ایسی کتابوں کو نصاب سے خارج کروائیں ، جو امتِ مسلمہ کو صحابہ کرام سے بدظن کرے؟
سوال میں مذکور روایات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ سب روافض کی بغض و عناد اور صحابہ کرام کے اوپر طعن و تشنیع پر مبنی باتیں ہیں جو کہ سراسر جھوٹ اور دروغ گوئی ہے، ان پر یقین کرنا درحقیقت اپنی عاقبت تباہ کرنے کے مترادف ہے، اس لۓ اس طرح کی روایات وغیرہ پڑھنا اور پڑھانا اور اس قسم کی من گھڑت واقعات پر مشتمل کتابوں کو باقاعدہ داخلِ نصاب کرنا قطعاً ناجائز ہے۔ چنانچہ حکومت اور متعلقہ افسران پر لازم ہے کہ اس طرح کی کتابوں کو نصاب سے خارج کرکے ان کی اشاعت اور خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کریں، تا کہ لوگ صحابہ کرام کی مقدس جماعت اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی جو کاتبِ وحی بھی تھے ، کے بارے میں بدظنی سے محفوظ رہ سکیں اور خود اہلِ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرکے مؤاخذۂ اخروی سے بچ سکیں۔
و فی شرح الفقه الاکبر : و لذالک ذھب جمہور العلماء الی ان الصحابة –رضی اللہ عنہم-کلھم عدول قبل فتنة عثمان و کذا بعدھا و لقوله علیه الصلاة و السلام : اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم رواہ الدارمی و ابن عدی و غیرھما و قال ابن دقیق العید فی عقیدته : و ما نقل فیما شجر بینھم و اختلفوا فیه فمنه ما ھو باطل و کذب فلایلتف الیه و ماکان صحیحا اولناہ تاویلا حسنا لان الثناء علیھم من اللہ سابق و ما نقل من الکلام اللاحق محتمل التاویل و المشکوک و الموھوم لایبطل المحقق و المعلوم ھذا و قال الشافعی –رحمه اللہ- تلک دماء طھر اللہ ایدینا منھا فلا نلوث السنتنا بھا و سئل احمد عن امر علی و عائشة –رضی اللہ عنھما-فقال : تلک امة قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم و لاتسئلون عما کانوا یعملون اھ (117)۔
حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0