جناب مفتی صاحب السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک مقرریوں تقریر کر رہے تھے حضرت خولہ بنت ثعلبہ نے حضرت عمر کو یوں نصیحت فرمائی، وہ عورت کہنے لگی ایک زمانہ تھا تو عمری عمری کہلاتا تھا، پھر تجھے عمر کہنے لگے، پھر تو امیر المؤمنین بن گیا، تو اللہ سے ڈرا کر تو حضرت عمر بھیگی بلی بنے سن رہے تھے، جب وہ بڑھیا چلی گئی تو لوگوں نے کہا اے امیر المؤمنین! آپ اس بڑھیا کی خاطر کھڑے ہوگئے کہا ارے بدھو! تمہیں پتا نہیں کہ یہ عورت کون ہے؟ یہ وہ ہے جس کی عرشوں پر رب نے سنی تھی، میں زمین پر کیسے نہ سنتا، یہ خولہ بنت ثعلبہ ہے، جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ واقعی اسی طرح ہے؟
(۲) کیا خط کشیدہ الفاظ اہانت امیر المؤمنین کی نشاندہی نہیں کرتے؟ (۳) کیا ایسے ذاکر کے پیچھے نماز ادا کرنا درست ہے؟ (۴) ان الفاظ سے توہین صحابہ کرنے والے اہلسنت والجماعت ہیں یا نہیں؟ (۵) کیا ایسے ذاکر کی تقریر سننی چاہیے؟ تفصلی جواب عنایت فرمائیں۔
کتب تاریخ وغیرہ میں اگرچہ اس قسم کا واقعہ ملتاہے، مگر اس کے الفاظ وہ نہیں جو مذکور مقرر نے بیان کیے ہیں، صحیح واقعہ یہ ہے کہ ایک بار حضرت عمرؓ مسجد سے نکلے اور ان کے ساتھ جارود عبدی نامی شخص بھی تھا، اچانک بیچ راستے میں ایک عورت سامنے آئی، حضرت عمرؓ نے ان کو سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا اور پھر کہنے لگی خبردار اے عمر! ایک زمانہ تھا تو اپنی لاٹھی سے عکاظ کے بازار میں بکریاں چرایا کرتا تھا اور تجھے عمیر (چھوٹا عمر) کہا جاتا تھا، پھر کچھ دن گزرے نہ تھے کہ تجھے عمر اور پھر امیر المؤمنین کہا جانے لگا تو رعایا کے بارے میں اللہ سے ڈر اور جو وعید سے ڈرا، اس کے لیے بعید بھی قریب ہے اور جو موت سے ڈرتاہے تو عمل کے فوت ہونے پر گھبراتا ہے۔ جارود عبدی نے کہا اے عورت! چپ ہوجاؤ، تم نے کچھ زیادہ ہی بولدیا تو عمرؓ کہنے لگے ان کو بولنے دو، کیا تم نہیں جانتے کہ یہ خولہ بنت حکیم ہے، یہ تو وہ عورت ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سنی تھی، اللہ کی قسم عمر تو زیادہ اس کی بات سننے کا حقدار ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ مذکور مقرر نے واقعہ کے نقل میں بہت بے احتیاطی سے کام لیا جس کی وجہ سے وہ بے ادبی کا مرتکب ہوگیا، ایسا شخص اگر سنی ہو تو آئندہ اس قسم کی بے احتیاطی سے مکمل اجتناب کرے اور اب تک کے عمل پر بصدق دل توبہ واستغفار کرے، ورنہ اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست نہیں، جبکہ جو لوگ صحابہ کرام کی توہین کرتے ہیں، وہ اہل سنت والجماعت میں سے نہیں، اس قسم کے لوگوں کی تقریر سننے سے احتراز لازم ہے۔
کمافي الاستیعاب لابن عبد البر: عن قتادة، قال: خرج عمر من المسجد ومعه الجارود العبدي، فإذا بامرأة برزت على ظهر الطريق، فسلم عليها عمر، فردت عليه السلام، وقالت: هيهات يا عمر، عهدتك وأنت تسمى عميرا في سوق عكاظ ترعى الضأن بعصاك، فلم تذهب الأيام حتى سميت عمر، ثم لم تذهب الأيام حتى سميت أمير المؤمنين، فاتق الله في الرعية، واعلم أنه من خاف الوعيد قرب عليه البعيد ومن خاف الموت خشي عليه الفوت، فقال الجارود: قد أكثرت أيتها المرأة على أمير المؤمنين، فقال عمر: دعها، أما تعرفها! فهذه خولة بنت حكيم امرأة عبادة بن الصامت التي سمع الله قولها من فوق سبع سماوات، فعمر والله أحق أن يسمع لها اھـ (۴/۱۸۳۱)۔
وفي بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع: ولهذا عد أبو حنيفة - رضي الله عنه - إحلال المثلث من شرائط مذهب السنة والجماعة، فقال في بيانها: "أن يفضل الشيخين، ويحب الختنين، وأن يرى المسح على الخفين، وأن لا يحرم نبيذ الخمر" اھـ (۵/۱۱۶) واللہ أعلم بالصواب
حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0