1. پہلے تینوں خلفائے راشدین کا طریقہ انتخاب یا نامزدگی غلط تھی۔وجوہات درجِ ذیل ہیں ملاحظہ ہو:
(1) ثقیفہ بنوساعدہ کےمقام پر حضرت محمدﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو نامزد نہیں کیا تھا۔
(2) حضرت ابوبکرؓ نے خود ہی فاروق اعظمؓ کو نامزد کر دیا تھا۔
(3) حضرت عمرؓ نے صرف چھ رُکنی شوریٰ کے مشورے سے حضرت عثمان کو نامزد کیا تھا، جبکہ شوریٰ کے ارکان پر بھی اعتراض ہے کہ ان کی شہرت نہیں تھی۔
1. جب ایک شخص میں صلاحیت موجود ہو اور صاحبِ شریعت کی طرف سے اس کی تائید کے اشارات بھی ملتے ہوں تو اس کو نامزد کرنے میں کونسا شرعی یا عقلی محظور ہے؟ جبکہ یہ ایک خلیفہ راشد کا عمل ہے۔ جو حدیث کی رو سے واجب الاتّباع ہے۔
(1) ثقیفہ بنوساعدہ کا واقعہ آپﷺ کی وفات کے بعد کا ہے، اس لیے یہ کہنا کہ حضرت محمدﷺ نےحضرت ابوبکرؓ کو نامزد نہیں کیا تھا بےمعنی ہے، جبکہ نبیؐ نے اپنی حیات ہی میں حضرت ابوبکرؓ کو جماعت کا امام بناکر آپؓ کی خلافت کو بے غبُار فرما دیا تھا۔
(2) بلادلیل کسی عام سے عام تر آدمی کے کردار پر بھی اعتراض کرنا، قرآن و سنت کی روشنی میں ناجائز اور حرام ہے، چہ جائیکہ صحابہ کرامؓ جیسی قدسی صفات اور معیارِ ایمان لوگوں اور ان میں سے بھی اہلِ حل و عقد کےمتعلق اس قسم کی زبان درازی کی جائے، اس لیے سائل کو اپنے ناجائز طرزِعمل سے احتراز لازم ہے۔ اس کے بعد واضح ہو کہ حضرت عثمانؓ کی نامزدگی اگر چہ چھ رُکنِی شوریٰ نے کی ہو، مگر آپ کو مسندِ خلافت کےلیے تمام طبقات کے لوگوں سے آراء لینے کے بعد منتخب کیا گیا۔ اور سائل کا یہ اعتراض بھی تحقیق سے نابلد ہونے پر مبنی ہے۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: لقد تم انتخاب أبي بكر الخليفة الأول بعد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في أحدث صورة لمؤتمر سياسي جرى فيه نقاش حاد بين المهاجرين والأنصار في سقيفة بني ساعدة عقب وفاة الرسول - صلى الله عليه وسلم - وقبل دفنه، وكان قصدهم من النقاش هو تحقيق مصلحة الإسلام وخير المسلمين. وكان عمر هو أول من رشح أبا بكر - رضي الله عنه -، ووافقه أهل العقد والحل، وبايعه المسلمون جميعاً، من وافق منهم أو خالف في أثناء النقاش. حتى إن علياً كرم الله وجهه الذي انتابه مرض بسبب وفاة النبي - صلى الله عليه وسلم - بايع أبا بكر بعد برئه. (8/ 6174)-
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: كان اختيار عمر - رضي الله عنه - بترشيح من أبي بكر في صورة عهد إلى المسلمين، بعد استشارة أهل الحل والعقد، ثم بايعه المسلمون ورضوا به. فعندما أحس أبو بكر بدنو أجله، طلب من الناس أن يؤمّروا عليهم واحداً في حال حياته، حتى لا يختلفوا بعده الخ (8/ 6174)-
وفیه أیضاً: وقام أهل الشورى هؤلاء بإجراء مشاورات طوال الأيام الثلاثة ليلاً نهاراً، وكان عبد الرحمن ـ الذي خلع نفسه من الخلافة ـ يلقى أصحاب رسول الله، ومن وافى المدينة من أمراء الأجناد وأشراف الناس، يشاورهم، فوجد الناس يجمعون على أحد اثنين: عثمان أو علي. إلا أن أكثرية أهل الشورى والمسلمين رغبوا بعثمان لما عرفوا فيه من لين ورحمة و إفضال على الناس بتجهيز جيش العسرة من ماله وشراء بئر رومة وجعله سبيلاً للمسلمين يسقون منه. ثم جمع عبد الرحمن المسلمين في المسجد، واستوثق من عثمان وعلي بالعمل بكتاب الله وسنة رسوله وسيرة الخليفتين الراشدين من قبله بالعدل والإنصاف، ثم بايع (أي عبد الرحمن) عثمان رضي الله عنه وتابعه المسلمون بالمبايعة، وفيهم علي بن أبي طالب بعد أن تأخر عن المبايعة بسبب مرضه. ولم تكن مبايعة عبد الرحمن محاباة ولا ظلماً كما قد ظن بعض الناس، وإنما كانت تعبيراً أميناً صادقاً عن آراء الأمة ومشاوراته الليالي والأيام مع أكابرهاومتقدميها.اھ(8/ 6176،6177)-
حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0