جنگِ بدر ہوئی تو صرف تین سو تیرہ (313) لڑنے والے تھے ،باقی ڈرتے تھے لڑنے کیلۓ ،جو جنگ احد ہوئی، سرکارِ مدینہ نے جو تیر کمان والے تھے، ان کو کہا تم نے اپنی پوزیشن نہیں چھوڑنی ،جب لوٹ مار شروع ہوئی تو وہ چھوڑ کر چلے گئے ۔
کیا یہ گستاخی نہیں ہے؟ اگر گستاخی ہے تو الیکشن میں جن لوگوں نے اس کی سپورٹ کی ، وہ بھی ان کے گناہ میں شامل ہیں؟اور اب ہمارے لۓ کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ، انبیاءکرام علیہم السلام کے بعد اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ لوگ ہیں،ان کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعما ل کرنا صریح گستاخی ہے،جو کہ موجبِ فسق ہے، ایسے الفاظ ادا کرنے والےشخص پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنا لازم ہے،تاہم یہ ایسا اقدام ہے، جس کا ووٹ یا ووٹ کی وجہ سے ملنے والے عہدہ سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ محض نجی اور ذاتی اعتقاد و نظریہ سے تعلق رکھتا ہے،اس لیے ووٹ کے ذریعے ایسے شخص کی سپورٹ کرنے والے اگر اس کی مذکور حرکت کو ناپسندیدہ سمجھیں اور غلط تاویلات کے ذریعہ اس کا دفاع نہ کریں تو وہ اس کے مذکور عمل کے گناہ میں شریک نہ ہوں گے،تاہم سائل اور دیگر حضرات کو چاہیۓ کہ مذکور شخص کے عمل کو دل سے برا جانتے ہوئے اس شخص سے براءت کا اظہار کریں اورمعاشرہ میں اسلامی آگہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں اور آئندہ ایسے افراد کو اپنے ووٹ وغیرہ کے ذریعہ تعاون فراہم نہ کریں ۔
و في تفسير الخازن : و لا تكسب كل نفس إلا عليها ( يعني أن إثم الجاني عليه لا على غيره ) و لا تزر وازرة وزر أخرى ( يعني لا تؤاخَذ نفس آثمة بإثم أخرى و لا تحمل نفس حاملة حمل أخرى و لا يؤاخذ أحد بذنب آخر) ثم إلى ربكم مرجعكم ( يعني يوم القيامة ) فينبئكم بما كنتم فيه تختلفون ( يعني في الدنيا من الأديان و المل اھ(2/ 208)۔
و فی الفقه الاکبر: و لانذکر أحدا من أصحاب رسول اللہ إلا بخیر اه (ص43)۔
و في شرح الفقه الاکبر : ( و لا نذکر الصحابة) ای مجتمین و منفردین۔ و فی نسخة: و لانذکر احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم الا بخیر یعنی و ان صدر من بعضھم بعض ما ھو فی صورة شر ، فانه امر کان عن اجتھاد و لم یکن علی وجه فساد من اصرار و عناد بل کان رجوعھم عنه الی خیر میعاد بناء علی حسن الظن بھم و لقوله علیه السلام : خیر القرون قرنی اھ(ص71)۔
و فی رسالة الی اھل الثغر لإجماع الثامن و الأربعون و التاسع و الأبعون : أوجب الکف عن ذکر الصحابة بسوء و ذکر أنھم من خیار الناس و ینبغی أن تنشر محاسنھم و أن تحمل أفعالھم علی افضل المخارج مؤکدا فضلھم علی من بعدھم بشھادة القرآن و السنة اھ(1/60)۔
و فی شرح العقائد النسفية : و یکف عن ذکر الصحابة الا بخیر لما ورد من الاحادیث الصحیحة فی مناقبھم وجوب الکف عن الطعن فیھم کقوله -علیه السلام "لاتسبوا اصحابی فلو ان احدکم ان انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم و لانصیفہ" و کقوله -علیه السلام- اکرموا اصحابی فانھم خیارکم الحدیث و کقوله -علیه السلام- اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا من بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم و من ابغضھم فببغضی ابغضھم و من آذا ھم آذانی و من آذانی فقد آذی اللہ و من آذی اللہ فیوشك ان یاخذہ اھ(ص162)۔
حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0