مجھے پنجتن پاک کی مجلس میں حاضر ہونے کے بارے میں معلوم کرنا ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چاول پر ان کے ہاتھوں کے نشان دیکھے ہیں کسی میلاد میں، کیا واقعی طاہر القادری نے ربیع الاول میں انگلی کے اشارہ سے چاند پر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کانام لکھا ہے؟ یہ ایک بدعتی کے بس میں کس طرح ممکن ہے؟
اچھی اور آسان تفاسیر بتائیں مطالعہ کیلۓ۔
کسی بھی بزرگ کے مجلس میں آنے اور چاول پر ان کے ہاتھوں کےنشان دیکھنے کا عقیدہ رکھنا محض بے بنیاد اور من گھڑت ہے، اسی طرح کسی شخص کے متعلق چاند پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مبارک لکھنے کا دعویٰ کرنا محض بے ہودہ اور لغو بات ہے اور اس کی ایسی باتوں کو صحیح سمجھنا بدعقیدگی اور غلو پر مبنی ہے، لہٰذا فریقین کو اس قسم کی باتوں سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ مطالعہ کیلۓ تفسیر’’ معارف القرآن ‘‘ مولفہ مفتی شفیع صاحبؒ،’’ انوار البیان‘‘ مولفہ حضرت مولانا عاشق الٰہی مدنی صاحبؒ، ’’معالم العرفان‘‘ مولفہ صوفی عبد المجید سواتی صاحبؒ ، ’’تفسیر روح القرآن‘‘ اور ’’ آسان ترجمہ قرآن‘‘ مؤلفہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب انشاء اللہ مفید رہیں گے۔
في روح المعاني: فى الكشاف الغلو فى الدين غلوان : حق وهو أن يفحص عن حقائقه ويفتش عن أباعد معانيه ويجتهد فى تحصيل حججه كما يفعلون المتكلمون من أهل العدل والتوحيد وغلو باطل وهو أن يجاوز الحق ويتخطاه بالاعراض عن الأدلة واتباع الشبه كما يفعله أهل الاهواء والبدع انتهى (الي قوله) لاتغلوا مجاوزين الحق أو من دينكم أى لاتغلوا فى دينكم اھ(6/ 210)۔
وفی مجموعة قواعدالفقه: ھی الامر المحدث الذی لم یکن علیه الصحابة و التابعیون و لم یکن مما اقتضاہ الدلیل الشرعی اھ(ص204)۔