کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ دو بندوں کے درمیان کسی معاملے کے تصفیۓ کیلۓ جرگہ تھا ، جس میں تین بندے ایک جانب سے اور تین دوسرے جانب سے مقرر کیے گئے تھے ، جرگہ کے افراد نے ایک بات پر فیصلہ کر لیا،جب وہ فیصلہ سنایا تو ایک بندے نے ماننے سے انکار کیا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا ، جرگہ والوں نےسمجھایا،لیکن وہ کہنے لگا کہ اس وقت میرا دل اس کو نہیں مانتا ،جب میرا دل مانے، اس وقت مان لونگا ،جرگہ والوں نے اصرار کیا تو کہنے لگا کہ '' اگر اس وقت اللہ پاک بھی مجھے کہے تو پھر بھی میں اس بات کو نہیں مانتا "(نعوذ باللہ) ،اب معلوم یہ کرناہےکہ اس صورت میں ایسے بولنے والے شخص کا کیا حکم ہے؟
سوال میں ذکرکردہ جملہ "اگر اس وقت اللہ پاک بھی مجھے کہے تو پھر بھی میں اس بات کو نہیں مانتا " کفریہ جملوں میں سے ہے ،اگر کوئی مسلمان واقعۃً یہ جملہ کہہ دے تو اس کی وجہ سے "العیاذ باللہ " وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ، اور اس کا نکاح بھی ختم ہو جاتا ہے ، لہٰذا اب ایسے الفاظ استعما ل کرنے والے پر لازم ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کے ساتھ ساتھ از سر نو گواہان کی موجودگی میں نئے مہر کے تقر ر کے ساتھ تجدید ِنکاح بھی کرے،اور آئندہ کیلۓ اس طرح کے کلمات کہنے سے مکمل اجتناب کرے۔
فی مجمع الأنھر شرح ملتقی الأبحر: و یکفر بقوله "لو أمرنی اللہ تعالیٰ بکذا لم أفعل"۔ اھ (1/491)۔
وفي البحر الرائق: ويكفر بقوله لو أمرني الله بكذا لم أفعل ولو صارت القبلة إلى هذه الجهة ما صليت أو لو أعطاني الله الجنة لا أريدها دونك أو لا أدخلها مع فلان أو لو أعطاني الله الجنة لأجلك أو لأجل هذا العمل لا أريدها وأريد رؤيته اھ(5/ 131)۔
وفي الفتاوى الهندية: إذا قال لو أمرني الله بكذا لم أفعل فقد كفر كذا في الكافي اھ(2/ 258)۔
وفی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندية: اجمع اصحابنا علی ان الردة تبطل عصمة النکاح و تقع الفرقة بینھما بنفس الردة اھ(3/581)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1