کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محلے کی دو بڑی جامع مسجد کےامام صاحب لوگوں کی نمازِ جنازہ کو آکر زبردستی پڑھاتے ہیں، جبکہ اسی مسجد کا امام صاحب بھی ہےاور دلیل یہ دیتے ہیں بادشاہ قاضی نہ ہو تو جامع مسجد کا امام جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار ہے، حالانکہ" امامِ حی "موجود ہے، حتی کہ بعض لوگ جو وفات کر جاتے ہیں ان کی امامت پر راضی بھی نہیں اور ان کے زبردستی امامت کرنے پر اکثر لوگ راضی بھی نہیں ہیں اور امامت اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ایک جائے نماز مل جائےگا (مصلیٰ) اور حیلۂ اسقاط سے پیسے مل جائیں گے، براہِ مہربانی اس مسئلہ میں جو حقدار ہے اس کو ترجیح دے کر وجوہِ ترجیح احادیثِ نبوی اور آثارِ صحابہ کے روشنی میں واضح فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور جھوٹ کا بھی سہارا نہ لیا جا رہا ہو تو ائمہ کا یہ طرزِ عمل قطعاً نامناسب اور غلط ہے، کیونکہ اولاً تو امام الحی اولیٰ ہے اور ثانیاً اس طرح کے طرزِ عمل سے اہلِ علم کی بدنامی اور تحقیر ہوتی ہے، لہٰذا اس طرزِ عمل سے احتراز چاہیۓ۔
فی مصنف عبد الرزاق: عن معمر، عن قتادة، عن الحسن: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من أم قوما، وهم له كارهون لم تجاوز صلاته ترقوته» اھ(2/ 411)۔
وفی الفتاوى الهندية: أولى الناس بالصلاة عليه السلطان إن حضر فإن لم يحضر فالقاضي ثم إمام الحي ثم الوالي، هكذا في أكثر المتون اھ (1/ 163)۔