جناب میرا سوال یہ ہے کے میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی، اب میرا ایک تین سال کی بچی کا ساتھ ہے، جو کہ ہم نے ایڈوپٹ کی ہے، کیونکہ میرے شوہر باپ نہیں بن سکتے اور میں اپنی عدّت کا ٹائم گزار رہی ہوں جس میں تقریباً ٢٠ دن کا ٹائم باقی رہ گیا ہے، اب ہم حلالہ کرکے دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں، لیکن میرے شوہر جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ عورت کے ساتھ ساتھ مرد کا بھی حلالہ(کہ وہ بھی کسی عورت سے شادی کرے) ہوتا ہے ، رہنمائی فرمائیں.
دوسرا سوال یہ ہے کہ میں ان کو اپنے سارے حقوق معاف کرکے صرف اپنی بیٹی کے لئے ، باپ کے نام کے لئے نکاح کرنا چاہتی ہوں، کیونکہ میں کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی، پتا نہیں کہ میری بیٹی کو وہ بندہ اپنائے یا نہ اپنائے، تو کیا یہ شرعی طور پر ممکن ہے کہ میں اپنے سارے حقوق معاف کر کے نام کے خاطر نکاح کر لوں ؟
سائلہ کے شوہر کا یہ کہنا کہ عورت کے ساتھ مرد کا بھی حلالہ ہوتاہے شرعاً درست نہیں ہے،جبکہ سائلہ اگرچہ شوہر کے تمام حقوق معاف کردے،اور اس کا شوہر ہمبستری کے قابل نہ ہو اور اس کے شوہر نے اس کو تین طلاقیں دیدی ہوں تو دوبارہ اسی شوہر سے نکاح کرنے کیلئے حلالۂ شرعیہ کا واقع ہونا لازم ہے،اس کے بغیر کیا ہوا نکاح درست نہ ہوگا -
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0