کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص لفظِ سلام کے بعد نماز میں شامل ہوا، اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ شخص اسی تکبیر پر بناء کرے یا از سرِ نو دوبارہ تکبیر کہے؟
لفظ ’’السلام‘‘ کہتے ہی امام کی نماز ختم ہو جاتی ہے، اس لۓ ایسی حالت میں امام کی اقتداء کرنا درست نہیں ہوگی ، جس سے احتراز اور بجا ئے اقتداء کے انفرادی نماز کی نیت چاہیۓ، جبکہ بعض فقہاءِ کرام کے نزدیک اسی نیت پر بناء کر کے اپنی انفرادی نماز پڑھی جا سکتی ہے اعادۂ نیت کی ضرورت نہیں، مگر بہتر یہ ہے کہ نئے سرے سے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرے۔
فی الدر المختار: (قوله وتنقضي قدوة بالأول) أي بالسلام الأول. قال في التجنيس: الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال السلام جاء رجل واقتدى به قبل أن يقول عليكم لا يصير داخلا في صلاته اھ(1/ 468)۔
وفی التنویر: إذا فسد الاقتداء لا يصح شروعه في صلاة نفسه (1/ 582)۔
وفی حاشية ابن عابدين: والحاصل أن في المسألة روايتين إحداهما صحة الشروع في صلاة نفسه اھ(1/ 584)۔