کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دو منزلہ مسجد میں جہاں جماعت کے دوران عموماً زمینی منزل کی آخری صفوں اور دوسری منزل میں سارے نمازی مسبوق ہوتے ہیں اور جماعت کے دوران بجلی چلی جاتی ہے تو مدرک نمازی اگر مکبّر بنے تو اس کی آواز دوسری منزل کے نمازیوں تک نہیں پہنچ پاتی اور وہاں سے وہ دیکھ کر بھی اقتداء نہیں کرسکتے آیا اس صورت میں مسبوق مکبّر بن سکتا ہے تاکہ دوسری منزل والے نمازی اس کی آواز سن کر جماعت کی اقتداء کرسکیں اور اگر مسبوق کا مکبّر بننا جائز ہو تو پھر امام کے سلام پھیرنے کے وقت وہ کیا کرے؟ جواب جلد عنایت فرمائیں آپ کی عین نوازش ہوگی۔
ایسی صورت میں مسبوق کیلئے بھی مکبّر بننا بلاشبہ جائز اور درست ہے، البتہ امام کے سلام پر اس کے ساتھ سلام نہ پھیرے، جبکہ اس قسم کی مساجد میں امام کو چاہیئے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے آخری صف کے مقتدیوں میں سے کسی اونچی آواز والے مکبّر کو منتخب کرلے جو بہر صورت (یعنی بجلی ہو یا نہ) بآوازِ بلند تکبیرات انتقالات بجالاتا رہے اور یہ عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی الھندیۃ: والاولٰی للامام ان لا یستخلف المسبوق وان استخلفہ ینبغی لہ ان لا یقبل وان قبل جاز کذا فی الظہیریۃ ولو تقدّم یبتدیٔ من حیث انتہی الیہ الامام واذا انتہی الی السلام یقدم مدرکا یسلم بہم۔ (ج 1 صـ 96)۔