کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ٹوٹے ہوئے دانت کو بھرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
دانت بھروانا جائز اور اس کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل بھی درست ہو جاتا ہے۔
فی التاتارخانیة: وإذا کان ببعض أعضاء الوضوء جرح قد إنقطع قشره أو نحوه هل یجب إیصال الماء إلی ما تحته؟ کان الفقیه أبو إسحاق یقول ینظر: إن کان ما إنقشر یزول من غیر أن یتألّم لم یجزه إلا أن یصل الماء إلی ما تحته وإن کان لایزال من غیر أن یتألّم أجزاه وإن لم یصل الماء إلی ما تحته لأنه بمنزلة ما لم ینقشر اھ (۱/۹۵)۔
وفی الفتاوى الهندية: وقيل كل ذلك يجزيهم للحرج والضرورة، ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع. كذا في الظهيرية اھ (1/ 13)۔