وضو

سلس البول کی بیماری کی صورت میں نماز و تلاوت کیسے کی جاۓ ؟

فتوی نمبر :
59454
| تاریخ :
2003-12-05
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

سلس البول کی بیماری کی صورت میں نماز و تلاوت کیسے کی جاۓ ؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کو ’’سلسل البول‘‘کی بیماری ہے یہ آدمی نماز و تلاوت کیسے کرے؟ آیا ایک نماز کے لۓ ایک وضو کافی ہے ؟اور اگر وہ نماز کے بعد تلاوت کرے تو کیا اس کو نیا وضو کرنا پڑھے گا یا وہی نماز والا وضو کافی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص اگر واقعۃً معذور ہے (اس طور پر کہ مذکور بیماری کی وجہ سے نماز کے پورے وقت کے دوران اسے اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ طہارت کے ساتھ نماز پڑھ سکے) تو اس کے لۓ شرعاًحکم یہ ہے کہ پہلی مرتبہ تو نماز کے آخر وقت تک (مثلاً ظہر کا اوّل وقت ۱۲:۴۵ بجے ہے اور آخر وقت ۵۰۰ بجے تک) انتظار کرے ، اور آخر وقت میں وضو کر کے نماز پڑھ لے اور آئندہ کے لۓ ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے اور اس وضو سے وقت کے اندر دیگر عبادات بھی بجا لا سکتا ہے۔
تاہم واضح ہو کہ آئندہ کے لۓ جب کبھی نماز کے کسی ایک مکمل وقت کے دوران تھوڑی دیر کے لۓ بھی یہ عذر لاحق نہ ہوا تو شرعاً معذور والے احکام بھی نہ رہیں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاوى الهندية: المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق اھ(1/ 41)۔
وفیه أیضاً: شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر كالانقطاع فلا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله حتى لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت وصلت ثم خرج الوقت ودخل وقت صلاة أخرى وانقطع دمها فيه أعادت تلك الصلاة لعدم الاستيعاب اھ(1/ 40)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59454کی تصدیق کریں
0     1043
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات