وضو

سلس البول کے مریض کے لۓ موزوں پر مسح کی اجازت ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
59427
| تاریخ :
2009-10-19
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

سلس البول کے مریض کے لۓ موزوں پر مسح کی اجازت ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ’’سلس البول‘‘ کا مریض ہو تو کیا وہ موزے پہن کر اس پر مسح کر سکتا ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کوئی شخص واقعۃً ’’سلس البول‘‘ کا مریض ہو اور سردی وغیرہ کی بناء پر موزے بھی استعمال کرنا چاہتا ہو تو اس صورت میں اس کےلۓ موزوں پر مسح کا حکم بھی وہی ہوگا جو اس کے وضو کا حکم ہے، اس طور پر کہ کسی بھی ایک وقت جب اُس نے وضو کر کے موزے پہن لیے تو اس کے بعد اس وقت کے ختم ہونے تک جتنی مرتبہ وضو کرےگا موزوں پر بھی مسح کر سکتاہے، مگر جب دوسری نماز کا وقت داخل ہوگا تو جیسے اس وقت کےلۓ نیا وضو کرنا لازم ہے، اسی طرح موزے اُتار کر پاؤں دھونا بھی لازم ہوگا اس وقت محض مسح کرلینا کافی نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

في الدر المختار: وبقي من نواقضه الخرق، وخروج الوقت للمعذور اھ وفي رد المحتار تحت: (قوله وبقي من نواقضه الخرق إلخ) قد علم ذلك من كلامه سابقا، حيث قال في الخرق كما ينقض الماضوي، وقال في المعذور: فإنه يمسح في الوقت فقط، (الي قوله) نعم أورد سيدي عبد الغني أن خروج الوقت للمعذور ناقض لوضوئه كله لا لمسحه فقط فهو داخل في ناقض الوضوء، وقدمنا أن مسألة المعذور رباعية فلا تغفل اھ(1/ 278)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59427کی تصدیق کریں
0     617
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات