کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ مسجد کے ساتھ وضو خانہ متصل ہے، اس کے باوجود ایک معتکف شخص مسجد کے کنارے پر بیٹھ کر وضو کرتا ہے دورانِ وضو بعض مستعمل پانی مسجد میں گرتا ہے اور بعض مسجد سے باہر ، تو مذکور شخص کا وضو خانہ کو چھوڑ کر مسجد کے کنارے پر وضو کرنا درست ہے یا نہیں؟
معتکف کا مذکور طریقہ سے وضو کرنا کہ وضو کا مستعمل پانی مسجد میں گرتا ہو شرعاً درست نہیں، اسے چاہیۓ کہ مسجد سے متصل وضو خانہ میں ہی وضو کا اہتمام کرے، الا یہ کہ اگر وہ محض تبرید (ٹھنڈک حاصل کرنے)کے لۓ وضو کرتا ہو تو اس صورت میں اگرچہ مسجد میں اس طرح وضو کرنے کی گنجائش ہے، تاہم ماءِمستعمل مسجد میں گرانے سے اجتناب لازم ہے۔
فی حاشية ابن عابدين: فلو أمكنه من غير أن يتلوث المسجد فلا بأس به بدائع أي بأن كان فيه بركة ماء أو موضع معد للطهارة أو اغتسل في إناء بحيث لا يصيب المسجد الماء المستعمل، قال في البدائع: فإن كان بحيث يتلوث بالماء المستعمل يمنع منه لأن تنظيف المسجد واجب اهـ(2/ 445)۔