السلام علیکم
مفتی صاحب: چھوٹا بچہ رو رہا تھا ، شوہر بھی توجہ و دھیان نہیں دے رہا تھا، تو غصہ اور چڑ چڑا پن کی وجہ سے بیوی کے منہ سے یہ الفاظ جاری ہو گئے” اللہ کو بھی مجھ پر رحم نہیں آتا“یہ سنتے ہی شوہر اسکو تنبیہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ توبہ استغفار کرو، کلمہ پڑھو، تو وہ پھر توبہ واستغفار کرلیتی ہے، کلمہ بھی پڑھ لیتی ہے، اور اسکو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوتا ہے، اور شوہر اس سے پھر پوچھتا ہے کہ یہ الفاظ اس نے اپنے ارادے اور نیت سے کہے تھے یا کیسے؟ تو وہ کہتی ہے کہ اس کا ارادہ ونیت ایسا کہنے میں کیا تھااسے کچھ پتہ نہیں، اور نہ اسے پتہ تھا کہ ایسا کہنا کفر ہے، یہ کفریہ کلمہ ہے، بس غصہ اور چڑ چڑا پن کی وجہ سے وہ الفاظ جاری ہوگئے، تو کیا ایسی صورت میں بیوی پر کفر لاحق ہوا ہےاور نکاح ٹوٹ گیا ہے؟ جبکہ شوہر اسے پہلے بھی بتاتا رہا ہے کہ ایسے الفاظ کفریہ ہوتے ہیں، اور بول چال میں احتیاط کرنی چاہیئے، لیکن پھر بھی بیوی کے منہ سے ایک دن اس طرح کے الفاظ جاری ہوگئے، اور اب وہ یہ کہتی ہے کہ یہ جملہ خاص ” اللہ کو بھی مجھ پر رحم نہیں آتا“ کے بارے میں پتہ نہیں تھا کہ یہ کفریہ ہے تو کیا ایسی صورت میں کفر لاحق ہوگا؟ اور نکاح پر فرق پڑے گا؟
صورت مسئولہ میں مذکور خاتون کی زبان سے اگر واقعۃً بغیر کسی نیت و ارادہ کے، غلطی سے مذکور جملہ ” اللہ کو بھی مجھ پر رحم نہیں آتا“جاری ہوچکا ہو، تو اس سےاگرچہ وہ کافر نہ ہوئی اور نہ ہی نکاح پر اثر پڑا ہے ۔ البتہ احتیاطاً دوبارہ نکاح کرے تو زیادہ بہتر ہے، جبکہ مذکور خاتون کو آئندہ اس طرح کے کلمات کے متعلق احتیاط سے کام لینا لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: رجل قال يا رب أين ستم مبسند قال بعضهم: يكفر والأصح أنه لا يكفر لو قال: خداي عز وجل برتوستم كناجنانكه توبر من كردي الأصح أنه لا يكفر الخ (ج2 صـ259، ط: دار الفکر)۔
وفی مجمع الانھر: وتلزم إعادة الحج إن كان قد حج ويكون وطؤه حينئذ مع امرأته زنا والولد الحاصل منه في هذه الحالة ولد الزنا ثم إن أتى بكلمة الشهادة على وجه العادة لم ينفعه ما لم يرجع عما قاله لأنه بالإتيان بكلمة الشهادة لا يرتفع الكفر وما كان في كونه كفرا اختلاف يؤمر قائله بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك احتياطا وما كان خطأ من الألفاظ لا يوجب الكفر فقائله مؤمن على حاله ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك، هذا إذا تكلم الزوج فإن تكلمت الزوجة ففيه اختلاف في إفساد النكاح وعامة علماء بخارى على إفساده لكن يجبر على النكاح ولو بدينار وهذا بغير الطلاق الخ (ج1 صـ687-688، ط: دار احیاء التراث العربی)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1