کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ، کیا جماعت کے حصول کے لیے صرف فرض وضو کرلینا چاہیے؟ کیونکہ وقت کم ہوتا ہے۔
ادراکِ جماعت کے لیے وضو کی سنن وغیرہ چھوڑنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ محض فرائض پورے کرنے کی وجہ سے کوئی جگہ بال برابر بھی خشک نہ رہے، ورنہ وضو نہ ہوگا، لیکن اس عمل کو عادت بنانے سے احتراز چاہیے، اور اگر جماعت کے وقت سے کچھ پہلے وضو وغیرہ مکمل کر کے نماز کی تیاری کر لی جائے، تو یہ عمل زیادہ افضل اور اجر وثواب کا ذریعہ ہے، اور ایک مومن کی یہی شان ہونی چاہیے۔
ففی حاشية ابن عابدين: قال في القنية: لو خاف أنه لو صلى سنة الفجر بوجهها تفوته الجماعة، ولو اقتصر فيها بالفاتحة وتسبيحة في الركوع والسجود يدركها فله أن يقتصر عليها لأن ترك السنة جائز لإدراك الجماعة، فسنة السنة أولى اھ(2/ 57) واللہ أعلم بالصواب!