قرض

بچت کمیٹی کی ادائیگی کی تاخیر پر جرمانہ کی رقم کا حکم

فتوی نمبر :
59241
| تاریخ :
2000-02-20
معاملات / مالی معاوضات / قرض

بچت کمیٹی کی ادائیگی کی تاخیر پر جرمانہ کی رقم کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اور مفتیانِ شرع متین ان مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
(۱) ہمارے پورے گاؤں والوں کے مشورے سے گاؤں میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جو ہر گھر سے ماہانہ ۱۰۰ روپے وصول کرتی ہے اگر کوئی شخص مقررہ تاریخ تک رقم جمع نہ کرواۓ تو یہ کمیٹی اس شخص سے یومیہ پانچ (۵) روپے جرمانہ بھی وصول کرتی ہے اور اس جمع شدہ رقم سے مندرجہ ذیل امور سر انجام دیتی ہے۔
جس کسی کی شادی ہو تو برتن، جگ، گلاس، ٹب وغیرہ کے اخراجات اور میت کی تدفین کے اخراجات کمیٹی مہیا کرتی ہے اور میت کے گھر آنے والے مہمانوں کیلئے کھانے کا انتظام بھی کمیٹی کرتی ہے اور ضروریات کیلئے بھی اسی کمیٹی کے خریدے ہوئے برتن استعمال ہوتے ہیں، اب سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان امور کیلئے مندرجہ بالا صورت میں کمیٹی تشکیل دینا اور اس کمیٹی کا تاخیر سے رقم جمع کرنے والوں سے یومیہ پانچ روپے جرمانہ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
(۲) زید نے بکر سے کہا کہ تیری داڑھی برش کی طرح ہے یا اس طرح کے نازیبا اور کلمات کہے یا کوئی سنت کے ساتھ مذاق کرے تو اس شخص کیلئے شرعاً کیا حکم ہے؟
(۳) قبر کا پختہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو حدیثِ نبوی یا کتبِ فقہ سے معتبر حوالہ جات سے مطمئن فرمائیں۔
(۴) فرض نمازوں کے بعد اجتماعی طور پر دعا مانگنے کی کیا حیثیت ہے یا سنت و نوافل کے بعد دعا کیلئے امام کے انتظار میں بیٹھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ بینوا باالبرہان توجروا عند الرحمن

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) اہلِ محلہ کا اپنے رفاہی امور اور جائز مقاصد کیلئے کمیٹی بنانے اور پھر اس کمیٹی کا جائز طریقہ سے چندہ وصول کرنے کی شرعاً گنجائش معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر یہ چندہ زبردستی وصول کیا جاتا ہو جیسا کہ سوال میں بھی مذکور ہے کہ تاخیر کرنے والوں پر یومیہ پانچ روپیہ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، تو اس طرح چندہ وصول کرنا جس میں دینے والی کی رضا مندی اور طیبِ خاطر نہ ہو ناجائز اور حرام ہے، نیز یہ کہ اس چندہ کو اہلِ میت کی ضیافت وغیرہ میں خرچ کرنا جو کہ شرعاً بھی درست نہیں، ناجائز ہے۔
پس صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمیٹی کے بننے کے بعض مقاصد اور چندہ وصول کرنے کے طریقۂ کار میں کئی ایک خرابیاں پائی جاتی ہیں جن کی بناء پر مذکور کمیٹی کا باقی رہنا اور چندہ وصول کرنا جائز نہیں، بلکہ جن لوگوں سے بادلِ ناخواستہ زبردستی چندہ لیا ہو اسے واپس کرنا بھی ضروری ہے اور اگر اس طرح کی کمیٹی بنانی ہو تو جائز مقاصد کیلئے جائز طریقہ سے چندہ وصول کرنا ضروری ہے۔
(۲) اگر اس طرح کے نازیبا اور ناشائستہ کلمات سے مراد فقط مخاطب کی ذات ہو (کہ تیری داڑھی ایسی ہے وغیرہ وغیرہ) تو یہ فسق ہے اس سے توبہ واجب ہے اور اگر اس قول سے مراد سنتِ رسول اللہ ﷺ ہو اور اسے حقیر سمجھنا ہو تو یہ کلماتِ کفریہ ہیں اس لئے کہ سنتِ نبویہ میں سے کسی بھی سنت کے ساتھ مزاح کرنا اور اسے بنظرِ حقارت دیکھنا کفر ہے تو ایسے شخص پر تجدیدِ ایمان واجب ہے اور اگر وہ شادی شدہ ہو تو تجدیدِ نکاح بھی واجب اور ضروری ہے اور آئندہ کیلئے اس طرح کے کلمات استعمال کرنے سے مکمل اجتناب واجب ہے۔
(۳) احادیثِ مبارکہ میں پختہ قبر بنانے سے منع کیا گیا ہے، اس لئے پختہ قبر بنانے سے احتراز ضروری ہے۔
(۴) فرض نمازوں کے بعد امام، مقتدی یا منفرد کا دعا کرنا احادیثِ نبویہ سے ثابت ہے جو کہ سنتِ مستحبہ ہے، پس امام اور مقتدی اس سنت پر عمل کریں تو ضمناً خود بخود اجتماع ہوجائے گا اور یہ جائز ہے، ہاں دعا آہستہ مانگنا افضل ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں اس کی ترغیب دی گئی ہے اور اگر امام بلند آواز سے دعا کرے اور مقتدی اس پر آمین کہیں تو تعلیماً یہ بھی جائز ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ فرائض کے بعد نفسِ دعا، اور دعا میں دونوں ہاتھوں کا اُٹھانا، آمین کہنا اور دعا کے ختم پر دونوں ہاتھوں کا چہرہ پر پھیرنا احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔
البتہ مروّجہ اجتماعی دعا کہ امام اور مقتدی سب مل کر ہی دعا کریں، ابتداء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے اس طور پر کہ امام یا مؤذن افتتاحیہ چند کلمات الحمدللہ الخ وغیرہ اونچی آواز سے ادا کرتا ہے اور پھر انتہاء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے کہ امام جب دعا ختم کرتا ہے تو ’’برحمتک یا ارحم الراحمین‘‘ بلند آواز سے ادا کرتا ہے جس کی بناء پر مقتدی امام کی دعا کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور امام سے پہلے اپنی دعا ختم نہیں کرسکتے، اگر پہلے ختم کردیں تو لوگوں میں یہ عمل معیوب سمجھا جاتا ہے، بعض مقامات پر تو امام کی جہری دعا کے جواب میں بلند آواز سے آمین، آمین یا دوسرے جوابی کلمات نہ بولنے والے کو بھی بنظرِ حقارت دیکھا جاتا ہے، اور بعض مقامات پر مقتدی کو اپنی نماز سے فارغ ہوکر امام کی دعا کے انتظار میں بیٹھنا پڑتا ہے، یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا شریعتِ محمدیہ اور سنتِ نبویہ سے دور کا بھی تعلق نہیں، اور قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا، اس لئے یہ طریقہ من گھڑت اور خالصۃً بدعت ہے جس سے احتراز واجب ہے۔
خلاصہ یہ کہ دعا میں امام اور مقتدی کا اجتماع ایک ضمنی چیز ہے مقصود نہیں لہٰذا اس کو اصل دعا سے بھی مزید بڑھانے کی کوشش کرنا اور ضروری سمجھنا درست نہیں، بلکہ امام کو بھی اختیار ہے کہ جتنی دیر چاہے دعا مانگے اور مقتدی کو بھی اختیار ہے، اس دعا میں کوئی ایک دوسرے کا تابع نہیں، لہٰذا مقتدی اگر چاہے تو مختصر دعا مانگ کر چلا جائے، اور چاہے تو امام کے ساتھ دعا ختم کرے اور اگر چاہے تو امام کی دعا سے بھی زیادہ دیر تک دعا مانگتا رہے، ہر طرح جائز ہے، اور ان میں سے کسی طرح بھی کرلے تو فرائض کے بعد کی یہ سنتِ مستحبہ ادا ہوجائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الھندیۃ: والحاصل أنہ اذا استخف بسنۃ أو حدیث من احادیثہ علیہ السلام کفر۔ اھـ (ج۶، ص۳۲۸)۔
فی صحیح مسلم: عن جابر قال نھٰی رسول اﷲ ﷺ أن یجصّص القبر وأن یقعد علیہ وأن یبنٰی علیہ۔(ج 2 ص 667 )
وفی الفتاوٰی الشامیۃ: واما البناء علیہ فلم أر من اختار جوازہ (الٰی قولہ) وعن أبی حنیفۃ: یکرہ أن یبنٰی علیہ بناء من بیت أو قبۃ أو نحو ذٰلک۔ اھـ (ج۲، ص۲۳۷)۔
فی التحفۃ المرغوبۃ فی أفضلیۃ الدعا بعد المکتوبۃ: للعلامۃ مخدوم محمّد ہاشمؒ: إنی قد سئلت: عن الدعاء بعد الصلاۃ المکتوبۃ ہل ہی سنۃ أم لا؟ وإن الدعاء بعد المکتوبۃ ہل الافضل فیہ ان تکون الدعاء قبل السنۃ المؤکدۃ فی الصلاۃ بعدھا سنۃ أو بعدہا۔
فقلت: إن الدعاء بعد المکتوبۃ سنۃ مستحبۃ لا یحسن ترکہا لا سیما فی حق الإمام و جاز فیہ أن یکون قبل السنۃ مالم یکن الدعا طویلا فکتبت ھذہ الرسالۃ و أوردت فیہا ما یدل علی عدم کراہۃ الدعاء قبل السنۃ بل علٰی أنہ الا فضل من الاحادیث النبویۃ ﷺ۔ الخ (۱،۲)۔
وفی سنن أبی داؤد: عن السائب بن یزید عن ابیہ قال: کان رسول اﷲ ﷺ إذا دعا رفع یدیہ و مسح و جہہ بیدیہ۔ اھـ (فی باب الدعا: ج۱، ص۲۱۶)۔
وفی سنن ابن ماجۃ: عن النبی ﷺ قال إن ربکم حیی کریم یستحیی من عبدہ أن یرفع إلیہ یدیہ فیردہما صفرا و قال فی ہامشہ: ھذا الحدیث یدل علی أن رفع الیدین للدعاء مستحب۔(ص۲۷۵)۔
وقال الجزری فی حصنہ: أن من آداب الدعاء تامین المستمع۔ اھـ(رواہ البخاری ومسلم وأبوداؤد والنسائی)۔
و فی تفسیر روح المعانی: تحت قولہٖ تعالٰی: قال قد أجیبت دعوتکما الآیۃ: والذی تظافرت بہ الآثار انہ علیہ السلام کان یؤمن لدعاء أخیہ والتأمین دعاء۔(ج۶، ص۱۷۴)۔
وکذٰلک فی کتب التفاسیر: ان اﷲ تعالٰی لما أمر موسٰی و ہارون علیہما السلام بالدّعاء جعل موسٰی یدعو و جعل ہارون یقول آمین، آمین فأجاب اﷲ تعالٰی دعائہما وقال، ’’قد أجیبت دعوتکما‘‘۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59241کی تصدیق کریں
0     1274
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حرام آمدنی والے سے قرض لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرض 4
  • حقوق العباد میں کوتاہی کی تلافی کیسے ممکن ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   قرض 0
  • کیاشہادت کی وجہ سے قرض بھی معاف ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض کس کرنسی میں واپس کرنا ہوگا؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مقروض شخص کا کاروبار میں پیسہ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میت پر قرض کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میزان بینک سے ہوم فائنانس اسکیم کا حصہ بننا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   قرض 1
  • ایزی پیسہ سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 3
  • بچت کمیٹی کی ادائیگی کی تاخیر پر جرمانہ کی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض پاکستانی کرنسی میں واپس کرنے کے مطالبہ کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ایزی پیسہ لون کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 1
  • چائنیز کرنسی میں قرض دیکر پاکستانی کرنسی سے وصول کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی تک دکان کا کرایہ مانگنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے مشروط کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مروجہ کرنسی کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • کریڈٹ کارڈ پر واجب الادا قرض نہ لوٹانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • When returning Dirhams obtained, on a later date, What is the rate applicable to repay??

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی واپسی کو کسی اور چیز کے ساتھ معلق کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • اولاد باپ کو انکی زندگی میں جو کچھ بھی دے اگر قرض کی تصریح نہ ہو تو اس کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں قرض لے کراضافہ کے ساتھ لوٹانا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کر کے قرض دینے کے بعد مقروض سے ریال کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض معاف کرنے کے بعد اس کا تقاضہ کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • ساس سسر کا بہو سے حق مہر میں دیا گیا سونا لے کر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • عمرہ کمیٹی کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
Related Topics متعلقه موضوعات