وضو

"اللہ تعالیٰ نے انسان کو جوڑوں میں پیدا کیا ہے " کا صحیح مطلب

فتوی نمبر :
58801
| تاریخ :
2006-06-08
معاملات / احکام نکاح / وضو

"اللہ تعالیٰ نے انسان کو جوڑوں میں پیدا کیا ہے " کا صحیح مطلب

مفتی صاحب! یہ قرآن میں لکھا ہے کہ ہم نے تمہیں جوڑوں میں پیدا کیا ۔(سورۃ النباء)- سوال یہ ہے کہ جب اللہ نے انسانوں کو جوڑوں میں پیدا کیا ہے؟ تو کچھ لوگ کیوں بغیر شادی کے مر جاتے ہیں؟ کچھ لوگوں کو کبھی بھی درست ساتھی نہیں ملتے اور وہ بوڑھے ہوجاتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

انسانوں کو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کے جوڑے کی صورت میں پیدا کیا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دو دو ایسے افراد پیدا کیے، جن کی باہم شادی ہو کر رہے گی، اس لیے مذکور اعتراض'' کہ لوگ بغیر شادی کے مرجاتے ہیں" بے جا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی تفسير روح المعاني: ﴿خَلَقْناكُمْ أَزْواجاً﴾ من قبيل مقابلة الجمع بالجمع وتوزيع الأفراد على الأفراد وهو خلاف الظاهر جدا ولا داعي إليه اھ(15/ 206)واللہ أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58801کی تصدیق کریں
0     1492
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات