ہمارے محلے میں میت کے حوالے سے ایک انجمن بنی ہوئی ہے، جو کہ محلے کے افراد نے آپس میں مل کر بنائی ہے، اس انجمن کا اصول یہ ہے کہ محلے کے اندر جتنے گھر ہیں اور ان گھروں میں جو شادی شدہ حضرات ہیں تو ان سے شروع میں ممبر بننے کی فیس (۱۰۰) سوروپے اور ماہوار ( ۲۰ ) بیس روپے وصول کیے جاتے ہیں اور جو اس انجمن کا ممبر نہ بننا چاہے تو کوئی زبردستی نہیں ہے ، اب انجمن کے پاس جورقم جمع ہوئی ہے، اسی رقم میں سے , انجمن کے کسی ممبر کے گھر میت ہو جائے تو یہ انجمن اُن کے گھر والوں اور اُن کے مہمانوں کے لئے تین (۳) دن تک کھانے، ٹینٹ، و شامیانے وغیر ہ لگانے کا انتظام کرتی ہے، اور اگر ضرورت ہو تو قبر، کفن و دفن وغیرہ کا بھی انتظام کر لیتی ہے، اور اگر جو ممبر نہیں ہے مگر غریب مسکین ہے تو ان کے لئے بھی یہ انجمن انتظام کر دیتی ہے-
میت کے گھر والوں اور اُن کے مہمانوں کو کھانا دینے یا کھلانے کا انجمن کا انتظام :
پہلے دن کے کھانے کے لئے انجمن خود میت کے گھر والوں اور اُن کے مہمانوں کے لئے دیگیں وغیرہ کا انتظام کرتی ہے، کیونکہ پہلے دن مہمانوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، دوسرے دن کے کھانے کے لئے انجمن انتظامیہ راشن وغیرہ کے لئے میت کے گھر کے دائیں طرف کے پڑوسی کے گھر بھجوائے گی تا کہ وہ میت کے گھر والوں اور اُن کے مہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام کرے۔
تیسرے دن کے کھانے کے لئے انجمن کھانے کے انتظام کے لئے راشن وغیرہ میت کے گھر کے بائیں طرف کے پڑوسی کے گھر بھجوائے گی، تاکہ وہ میت کے گھر والوں اور اُن کے مہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام کرے۔
تینوں دن صبح کے ناشتے اور شام کی چائے کے لئے جو انجمن کے ممبران ہیں، اُن کے گھروں پر پرچیوں کے ذریعے انتظام کی تقسیم ہوتی ہے، برائے مہربانی جلد از جلد فتوی طلب ہے، کیونکہ یہ انجمن ابھی حال ہی میں بنی ہے۔
اگر یہ بیس روپے ہر ممبر پر لازم اور جبری نہ ہوں اور نہ ہی زکوۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ کی مد سے دیے جاتے ہوں، بلکہ محض تبرع اور برادری کے تعاون کے طور پر امدادِ باہمی کی غرض سے دیے جاتے ہوں، تب تو اس رقم سے مذکور امور انجام دینے کی گنجائش ہے، بلکہ جو غریب و محتاج اس انجمن کے ممبر نہیں بن سکتے، ان کے ساتھ بھی مذکور طریقہ سے تعاون و مدد کرنے میں بھائی چارگی کے ساتھ ساتھ ثواب بھی ہے ، اس لئے اس سلسلہ کو برقرار رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ اگر آئندہ چل کر اس سلسلہ میں کوئی تبدیلی واقع ہو جائے تو اس کی باقاعدہ صراحت کروا کر اس کا حکمِ شرعی بھی معلوم کر لیا جائے۔
في سنن الترمذي : عن عبد الله بن جعفر قال : لما جاء نعي جعفر، قال النبي صلى الله عليه و سلم : اصنعوا لأهل جعفر طعاما ، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم . هذا حديث حسن ، و قد كان بعض أهل العلم يستحب أن يوجه إلى أهل الميت شيء لشغلهم بالمصيبة اھ (2/ 314)-
و فى الفقه على المذاهب الأربعة : أما إعداد الجيران و الأصدقاء طعاماً لأهل الميت و بعثه لهم ، فذلك مندوب ، لقوله صلى الله عليه و سلم : "اصنعوا لآل جعفر طعاماً ، فقد جاءهم ما يشغلهم"، و يلح عليهم في الأكل ، لأن الحزن قد يمنعهم منه . (1/ 490)-
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1