السلام علیکم !
والد بیٹے کو بال کٹوانے کو کہتا تھا، بیٹا جب والد زیادہ غصہ کرتا تو کٹوا لیتا تھا، اب کی بار والد کے بغیر کہے کٹوائے تو بھی والد اس وجہ سے ناراض ہوگئے کہ ساری زندگی میں کہتا رہا کٹوائے نہیں، اور اب اپنی مرضی سے کٹوا لیے، اور ایک دن اپنے بچے کو کہا چھت پر میرے ساتھ سو، جبکہ والد کو بچے سے کسی خدمت کی ضرورت نہیں تھی، اور بیٹے نے کہا میں کمرے میں سونا چاہتا ہوں، کیونکہ باہر ٹھنڈ لگتی ہے، اس وجہ سے والد سخت ناراض ہوگیا، بیٹے نے معافی مانگی لیکن والد پھر بھی نہ مانا، پاؤں بھی پکڑے تب بھی نہیں مانا، اس کے بعد جب اگلے دن تک والد نہیں بولے تو بیٹے نے والد سے کہا کہ میں آپ کو ہی خدا مان لیتا ہوں، آپ کو ہی نبی مان لیتا ہوں، آپ کی ہی عبادت کروں گا ، آپ خوش ہوجائیں، اور والد کے پاؤں پر اپنا سر بھی رکھا، والد بھی کافی دین دار ہیں، اب مان تو گئے ہیں، لیکن اب بیٹے کے لئے کیا حکم ہے؟ یعنی وہ کفر میں تو نہیں چلا گیا ، اگر چلا گیا ہے تو کیا حکم ہے؟
سوال میں مذکور کلمات " میں آپ کو ہی خدا مان لیتا ہوں، آپ کو ہی نبی مان لیتا ہوں، آپ کی ہی عبادت کروں گا" کفریہ ہیں، اور اسے کہنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، لہذا اگر مذکور بیٹے نے بقائمئ ہوش و حواس یہ الفاظ استعمال کیے ہوں، تو اس کی وجہ سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوگیا ، جس پر اسے توبہ و استغفار سمیت تجدیدِ ایمان اور اگر شادی شدہ ہو تو تجدید ِنکاح اور آئندہ اس طرح کے کلمات کہنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: باب المرتد هو لغة الراجع مطلقا وشرعا (الراجع عن دين الإسلام وركنها إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد الإيمان) (الی قولہ) وفي الفتح من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد. (الی قولہ) (وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لا يعقل وسكران ومكره عليها الخ (ج4 صـ222 باب المرتد ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: من هزل بلفظ كفر) أي تكلم به باختياره غير قاصد معناه، وهذا لا ينافي ما مر من أن الإيمان هو التصديق فقط أو مع الإقرار لأن التصديق، وإن كان موجودا حقيقة لكنه زائل حكما لأن الشارع جعل بعض المعاصي أمارة على عدم وجوده كالهزل المذكور، وكما لو سجد لصنم أو وضع مصحفا في قاذورة فإنه يكفر، وإن كان مصدقا لأن ذلك في حكم التكذيب، كما أفاده في شرح العقائد، وأشار إلى ذلك بقوله للاستخفاف، فإن فعل ذلك استخفافا واستهانة بالدين فهو أمارة عدم التصديق ولذا قال في المسايرة: وبالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب، أو بالقلب واللسان في تحقيق الإيمان أمور الإخلال بها إخلال بالإيمان اتفاقا، كترك السجود لصنم، وقتل نبي والاستخفاف به، وبالمصحف والكعبة.
وكذا مخالفة أو إنكار ما أجمع عليه بعد العلم به لأن ذلك دليل على أن التصديق مفقود، ثم حقق أن عدم الإخلال بهذه الأمور أحد أجزاء مفهوم الإيمان فهو حينئذ التصديق والإقرار وعدم الإخلال بما ذكر بدليل أن بعض هذه الأمور، تكون مع تحقق التصديق والإقرار، ثم قال ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي - صلى الله عليه وسلم - زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق الخ (ج4 صـ222 باب المرتد ط: دار الفکر)۔
وفی البحر الرائق شرح کنز الدقائق: وفي الجامع الأصغر إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا لا يكفر لأن الكفر يتعلق بالضمير ولم يعقد الضمير على الكفر وقال بعضهم يكفر وهو الصحيح عندي لأنه استخف بدينه اهـ (الی قولہ) والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضي خان في فتاويه ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف الخ (ج5 صـ 134 ط: دار الکتاب الاسلامی)۔
وفی الھندیہ: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر، فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير، فهو مسلم، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي، ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه وبين امرأته كذا في المحيط الخ (ج2 صـ283 بابا لعاشر فی البغاۃ ط: دار الفکر)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1