السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام , شریعت کی رو سے اس مسئلے کے بارے میں کہ زید صاحب کی پہلی شادی ہوچکی ہے , مگر کچھ وجوہات اور گھر کی ناچاقی ، جھگڑوں اور کچھ بیوی کی غلط رویوں کے بِنا پر یہ رشتہ تا دمِ آخر انجام نہیں پاتا , زید اس دوران بارہا بیوی کو کہہ چکا ہے کہ میں تمہیں تمہارے میکے چھوڑ آؤں گا پھر واپس نہیں لاؤں گا , پھر بیوی کو میکے چھوڑ جاتا ہے۔
اب اس دوران طلاق سے پہلے زید صاحب گھر والوں کو دوسری جگہ رشتے کے لئے بھیجتا ہے ، مگر وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنی بیٹی سوتن میں نہیں دیتے , پہلے وہ معاملہ حل کرو ، اب زید پہلی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے , پھر زید صاحب کے والد صاحب زید کو افہام و تفہیم سے یہ معاملہ حل کرانے , بیوی کے میکے بھیجتا ہےمگر زید جب وہاں بات کرنے کے لئے پہنچتا ہے تو بات بات پہ پھر وہی تو تو میں میں شروع ہوجاتی ہےاور پھر جھگڑا شروع ہو جاتا ہے , تو زید صاحب بس طلاق کے الفاظ بولتا ہے جو اس طرح ہیں "میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، دے دی ہے، دے دی ہے"۔لفظِ طلاق ایک بار جب کہ " دے دی ہے"3 بار دہراتا ہے , یہ الفاظ کہتے وقت بندہ جذباتی، اضطراب اور تذبذب کا شکار تھا اور اب تک جان نہیں پا رہا کہ اس وقت کونسی طلاق کی نیت کرنا تھی یا کرنا چاہیئے تھی ، بس ارادہ اتنا تھا کہ مجھ سے فارغ ہو اور میری جان کو آزادی مہیا ہو , اس دوران بیوی نے ایک بچے کو جنم دیا ہے جو کہ نفاس کا دورانیہ ہے , اب زید صاحب کے والد صاحب کسی عالمِ دین سے یہ مسئلہ دریافت کرتے ہیں تو وہ جواب میں نکاح کو برقرار کہتے ہیں اور تین طلاقوں کا منکر ہیں , جب کہ زید صاحب طلاقِ رجعی،بائن اور مغلظہ کے بارے میں لا علم ہے اور یہ گمان رکھتا ہے کہ میں نے بیوی کو فارغ کردیا ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ :
1۔کون سی طلاق واقع ہوئی ہے؟
2۔کیا بیک وقت 3 طلاقیں دی جاسکتی ہیں اور تینوں اسی وقت واقع ہوتی ہیں؟
3۔ کیا زید صاحب کے لئے رجوع کا دروازہ اب بھی کھلا ہے؟
برائے مہربانی مسئلہ حل فرما کر عند اللہ ماجور ہوں-
واضح ہو کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،چاہے تین طلاقیں ایک جملہ سے دی جائیں، جیسے "میں تمہیں تین طلاقیں دیتاہوں" ، یا الگ الگ جملوں سے دی جائیں جیسے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتاہوں "، لہذا صورتِ مسئولہ میں زید کے مذکور جملے"میں نے تجھے طلاق دیدی ہے ، دیدی ہے ، دیدی ہے " کہنے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، عورت عدت مکمل کرنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے ، جبکہ اس سلسلہ میں کسی غیر مقلد سے فتوی لے کر اس پر عمل کرنےسے بھی اجتناب لازم ہے -