میرے شوہر نے گھر والوں کے کہنے پر مجھے تین بار طلاق کہدیا لیکن ابھی کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوئی , تو کیا مجھے عدت کرلینی چاہیئے یا قانونی کاروائی کا انتظار کرنا چاہیئے ؟ میرا عدت کرنا اسلئے مسئلہ ہے کہ مجھے واپس لندن جانا ہے قانونی کاروائی کےلئے اور یہاں بھی ایسے معاملات ہیں کہ میرا ہونا لازم ہے مجھے دھوکہ سے یہاں لایا گیا ہے, اورکیا اس طرح دباؤ کے ذریعے طلاق ہوگئی ہے ؟
سائلہ نے شوہر کے کہے ہوئے الفاظِ طلاق نہیں لکھے تا کہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا ، جبکہ طلاق واقع ہونے کیلئے قانونی کاروائی ہونا کوئی ضروری نہیں ہے ، قانونی کاروائی کے بغیر بھی شوہر کے طلاق کے الفاظ بولنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا سائلہ کے شوہر نے صریح الفاظ کے ساتھ سائلہ کو تین طلاقیں دیدی ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ سائلہ عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے , جبکہ طلاق کے بعد سے سائلہ پر عدت کے احکام لازم ہوچکے ہیں ، سائلہ کو چاہیئے کہ بغیر کسی انتظار کے عدت کے احکام پر عمل پیرا ہو ، اور اب تک جو کوتاہی ہوئی ہے،اس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے -
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0