محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم !
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میزان بینک اور اسلامی بینک ’’آمد نی سرٹیفکیٹ‘‘ حلال ہے یا حرام؟
کیا یہ بینک شریعت کے مطابق کام کر رہے ہیں؟ کیا ان کے بچت اکاؤنٹ میں ہم رقم لگا سکتے ہیں؟
جی ہاں! مذکور دونوں بینک معتمد علماء کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں ،اور شرعی رہنمائی حاصل کرنے کیلئے مستند علماءِ کرام پر مشتمل شرعی ایڈوائزری کے نام سے باقاعدہ ایک بورڈ بھی قائم کیے ہوئے ہیں ،اور ان کے دیے ہوئے فارمولے بھی درست ہیں، مگر عملاً اس قسم کے بینکوں کو چلانے والے احکامِ شرعیہ سے ناواقف ہوتے ہیں، لہذا بینک سے معاملات کی عملی صورت معلوم کر کے اس کے مطابق عمل کی ضرورت ہے اور اگر عمل ان فارمولوں کے مطابق ہو تو جب تک یہ علماء کی نگرانی میں اور شرعی اصول وضوابط کے موافق کام کر رہے ہیں اس وقت تک ان کے ذریعہ سرمایہ کاری کرنا اور اس پر ملنے والا نفع حاصل کرنا شرعاً بھی جائز اور درست رہیگا ،تاہم ان کے احوال سے متعلق وقتا فوقتاً معلومات حاصل کرتے رہنا چاہیئے ۔ واللہ اعلم بالصواب!