السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ:
(1):مجھے کتنا سفر کرنا چاہئیے کہ جس سے میں مسافر کہلاؤں گا؟ جہاز،ٹرین اور گاڑی میں نماز پڑھنے کا طریقۂ کار کیا ہے؟
(2):مسح علی الخفین کے لئے کیا شرائط ہیں؟کیا کوئی شخص عام موزوں پر جو نوکری اور کھیل کے وقت پہنتے ہیں،مسح کرسکتا ہے؟ جو چمڑے کے نہیں ہوتے۔
(3):میاں بیوی کے درمیان باہمی تعلقات کے بنیادی اصول کیا ہیں؟ مہربانی فرما کر سارے سوالوں کے جوابات قرآن وحدیث سے جلد ازجلد عطا فرمائیں۔
1)جب کوئی شخص ایسےمقام پر جانے کا ارادہ رکھے،جو اس کی موجودہ جائے اقامت کی جگہ سے اڑتالیس(48)میل یعنی اٹھہتر(78)کلو میٹر دور ہو ،تو شرعاً یہ شخص مسافر کہلائے گا اور اپنے شہر کی آبادی سے نکلنے کے بعد اس پر فرض نمازوں میں قصر لازم ہوجاتا ہے،پھر جس مقام پر جانے کا ارادہ ہو،اگر وہاں پندرہ دن سے کم کم ٹھہرنا ہو،تب تو شرعاً وہ وہاں بھی مسافر کہلائے گا،ورنہ مقیم شمار ہوگا اور نمازوں میں بھی اتمام یعنی پوری نمازپڑھنا لازم ہوگا،جبکہ جہاز ٹرین گاڑی میں بھی نماز پڑھنے کا طریقہ وہی ہے،جیسے عام طور پر نماز پڑھی جاتی ہے،یعنی اگر کھڑے ہوکر پڑھنا ممکن ہو تو قیام لازم ہے،ورنہ بیٹھ کر رکوع اور سجدہ سے ادائیگئی نماز لازم ہوگی،تاہم لازم ہے کہ گاڑی وغیرہ کی سیٹ پر نماز پڑھنے سے احتراز کیا جائے۔
2)"مسح علیٰ الخفین "کے لئے شرط یہ ہے کہ موزے چمڑے کے ہوں یا ایسے موٹے اونی کپرے کے ہوں،جن میں پانی سرایت نہ کرسکتا ہو،بغیر باندھے پنڈلی پر رک جاتے ہوں اور انہیں پہن کر ایک میل تک ان میں چلنا دشوار نہ ہو،نیز موزے میں اس قدر پھٹن نہ ہوکہ تین انگلیوں کی مقدار نظر آئے،چنانچہ ان امور کا لحاظ رکھتے ہوئے موزوں پر مسح جائز ہے،ورنہ عام طور پر جو اونی یا لیلون وغیرہ کے موزے ہوتے ہیں،ان پر شرعاً مسح کرنا جائز نہیں،اس سے احتراز لازم ہے۔
3)تنقیح: چونکہ میاں بیوی کے درمیان باہمی تعلقات کے بارے میں پوری پوری کتابیں تصنیف کی جاچکی ہیں،اس لئے سائل کو جس خاص مسئلہ اور معاملہ سے متعلق وضاحت مطلوب ہو،اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ"ای میل" کردیں،ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے بھی اگاہ کردیا جائے گا۔
کما فی الھدایة: السفر الذی یتغیر به الاحکام ان یقصد مسیرة ثلٰثة ایام ولیالیھا بسیر الإبل ومشی الأقدام اھ(1/165)۔
وفیه أیضاً: ولایجوز المسح علیٰ خف فیه خرق کثیر یتبین منه قدر ثلاث اصابع من اصابع الرجل اھ(1/58)۔
وفیه أیضاً: ولایجوز المسح علیٰ الجوربین عند ابی حنیفة اھ(1/61)۔
وفیه أیضاً: إذا کان ثخیناً وھو ان یتمسك علیٰ الساق من غیر أن یربط بشئی اھ(1/61)۔